خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 296 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 296

خطبات مسرور جلد 14 296 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مئی 2016 ایک ممبر آف پارلیمنٹ نے کہا کہ خلیفہ کو ہر جگہ اور ہر پلیٹ فارم پر اسلام کی نمائندگی کرنی چاہئے اور لوگوں کو ان کی بات سننی چاہئے۔اگر کسی کو اسلام کا کچھ بھی خوف تھا تو وہ آج ڈور ہو گیا ہو گا۔پھر کہنے لگے کہ ایک مہمان نے کہا کہ یہ تقریر آسٹریا کے لوگوں کو دینی چاہئے کیونکہ ان ملکوں میں لوگ اسلام کی نفرت اور اسلام کے خوف میں جنونی ہو چکے ہیں۔انہیں یہ تقریر سننے کی سخت ضرورت ہے تاکہ وہ سیکھ سکیں کہ اسلام ایک امن کا مذہب ہے۔خلیفہ نے بہت خوبصورتی سے مساجد کے مقاصد کے بارے میں سمجھایا اور یہ کہ مسجد کا مطلب امن ہے اور یہ کہ صلوۃ کا مطلب بھی امن اور امان ہے۔مجھے یہ بھی اچھا لگا کہ آپ کے خلیفہ نے بتایا کہ جماعت احمدیہ کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اور صرف امن قائم کرنے کے بارے میں فکر کرتی ہے۔اور مجھ پر یہ بات بھی بہت اثر انداز ہوئی جب خلیفہ نے کہا کہ احمدی انسانیت کی تکالیف دور کرنا چاہتے ہیں اور ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔پھر یہ بھی بہت دلچسپ بات تھی کہ خلیفہ نے بتایا کہ نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک مسجد ضرار کو گرا دیا گیا تھا جس سے ثابت ہو تا ہے کہ مساجد صرف امن کی جگہیں ہوتی ہیں۔سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں بھی ایک ریسپشن تھی وہاں بھی چھ ممبران پارلیمنٹ شامل ہوئے۔دوسرے حکومتی اہلکار بھی تھے۔مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے اور وہاں بھی لوگوں نے بڑے اچھے تاثرات کا اظہار کیا۔ایک مہمان نے کہا کہ مجھے آج بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہے۔یہ بہت متاثر کن تھا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اس سے امید بندھی ہے۔میں بہت شکر گزار ہوں کہ خلیفہ یہاں آئے۔خلیفہ کے پیغام نے ہمیں احساس دلایا کہ ہم کسی تنازعے کو دیکھ کر آنکھیں بند نہ کر لیا کریں کہ یہ خود ہی ختم ہو جائے گا۔یہ بہت ٹھوس پیغام تھا اور میں اس کے لئے بہت شکر گزار ہوں۔پھر ایک مہمان نے کہا کیونکہ آجکل دنیا میں ایسی طاقتیں کام کر رہی ہیں جو انسان کو انسان سے دور کرنا چاہتی ہیں سب کو ایک جگہ اکٹھا کرنے میں آپ ہر لحاظ سے کامیاب ہوئے ہیں کیونکہ جب ہم ملتے ہیں تو ہماری آنکھیں کھلتی ہیں اور ہمیں مزید کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔عراق سے آنے والے ایک عیسائی مہاجر سلام صاحب نے کہا کہ میں نے عراق میں کبھی ایسی باتیں نہیں سنیں۔وہاں لوگ اسلام کی وہ شکل پیش نہیں کرتے جو آپ کے خلیفہ بتا رہے ہیں۔کاش کہ عراقی لوگ خلیفہ کی بات سن لیتے تو ہمیں اس طرح ہجرت نہ کرنی پڑتی اور یہاں سویڈش لوگوں کے سامنے بھکاری بن کر نہ آنا پڑتا۔یہاں سویڈش لوگوں کو لگتا ہے کہ میں کوئی حق جمانے آیا ہوں۔یہ احساس میرے لئے بہت برا ہے۔عراق میں آپ کے خلیفہ جیسا ایک شخص بھی نہیں ہے۔خلیفہ تو صاف صاف بات کرتے اور بتاتے ہیں کہ دنیا میں کیا ہو رہا