خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 295 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 295

خطبات مسرور جلد 14 295 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مئی 2016 ایک سویڈش مہمان نے اپنے خیالات کا اظہار کیا کہ اس شام نے مجھ کو بیحد متاثر کیا ہے اور میں نے سیکھا ہے کہ اسلام کیا ہے۔خلیفہ نے چند ہی منٹوں میں بہت سے موضوعات پر بات کی اور اسلام کا اس رنگ میں دفاع کیا جو کہ میں نے پہلے کبھی نہیں سنا۔کہنے لگا انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بعض مسلمان برے ہیں مگر خلیفہ نے قرآن کریم کا حوالہ دے کر یہ ثابت کیا کہ ایسے لوگ قرآن کی تعلیم کے خلاف جارہے ہیں۔اس کے حوالے سے ایک سیاستدان نے تقریر میں کہا کہ آپ کو ایک حقیقی مسلمان سے امن محسوس کرنا چاہئے اور میں جب تقریب میں تھا تو میں واقعی امن محسوس کر رہا تھا۔ایک عیسائی پادری کہنے لگے کہ مجھے آپ کے خلیفہ کی تقریر کے ہر لفظ سے اتفاق ہے بالخصوص مجھے ان کی یہ بات پسند آئی ہے کہ ہمیں خدا کو یاد رکھنا چاہئے اور یہی مذہب کی بنیاد ہے۔نیز یہ کہ انہوں نے شروع میں جو قرآن پڑھا تو وہ مجھے بہت روحانی اور ہلا دینے والا لگا۔ایک مہمان کہنے لگے مجھے آج یوں لگا کہ میں کسی اور دنیا میں ہوں۔مرکزی موضوع بھی یہی تھا کہ ایک دوسرے کا خیال رکھیں خاص طور پر ان کا جو سب سے کمزور اور ضرورتمند ہیں۔پھر کہنے لگا خلیفہ نے قرآن کے ذریعہ ثابت کیا کہ مذہب دل کا معاملہ ہے۔انہوں نے یقینا مجھے تسلی دلائی اور مجھے امید ہے کہ دوسروں نے بھی جو یہاں موجود تھے اس طرح فائدہ اٹھایا ہو گا۔ایک مہمان نے کہا کہ آج کے خطاب میں بہت سے موضوعات پر بات کی۔لوگ کہتے ہیں کہ اسلام شدت پسندی کا مذہب ہے مگر آپ کے خلیفہ کا پیغام اس سے بالکل مختلف ہے۔پھر ایک سویڈش مہمان نے کہا کہ اسلام کے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔یہ بڑی اچھی بات تھی کہ جس طرح میڈیا ہمیں ہر وقت اسلام کے بارے میں بتاتا ہے کہ یہ ایک متشد د مذہب ہے مگر آج ہمیں اس کے بر عکس ہی سننے کو ملا۔خلیفہ نے ہمیں تسلی دلائی اور ہمارے ڈر کو ڈور کیا اور ثابت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر امن تھے۔پھر ایک مہمان نے کہا آج یہاں آنے سے پہلے میں اسلام کے بارے میں خوفزدہ تھی مگر آج جو مجھے نظر آیا اور جو میں نے دیکھا وہ بالکل مختلف تھا۔خلیفہ کا پیغام رحمدلی، ہمدردی اور امن کا پیغام تھا۔یہ تعلیم دیتے ہیں کہ آپ کو ہر شخص سے اس کے مذہب کی پرواہ کئے بغیر محبت کرنی چاہئے۔اس نے میرے دل کو چھو لیا نیز یہ بھی سن کر اچھا لگا کہ اسلام ہمسایوں کے حقوق کے بارہ میں تعلیم دیتا ہے۔اس طرح کے بہت سارے تأثرات مہمانوں کے ہیں۔بدھسٹ بھی ہیں، عیسائی بھی ہیں اور سب نے اس بات کا اظہار کیا کہ اسلام کی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ جو ہے وہ یقیناً شدت پسندی کے خلاف ہے۔