خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 7
خطبات مسرور جلد 14 7 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2016 کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ لوگ کام کریں گے۔پہلے اللہ تعالیٰ وارنگ دے رہا ہے کہ تم یہ کروگے لیکن نہ کرنا کیونکہ اس کی سزا ملے گی۔فرمایا: "کوئی قوم ایسی دکھاؤ کہ جس کو کہا گیا کہ تم یہ کام نہ کرو اور اس نے نہ کیا ہو۔"یعنی اگر کسی قوم کو کہا ہے کہ کام نہ کرو تو وہ ضرور کرتے ہیں۔" خدا نے یہودیوں کو کہا کہ تحریف نہ کرو۔" بائبل میں تورات میں " انہوں نے تحریف کی۔قرآن کی نسبت یہ نہیں کہا کہ تحریف نہ کرو بلکہ یہ کہا إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لحفِظُونَ (الحجر:10) غرض دعاؤں میں لگے رہو کہ خدا تعالیٰ اَنْعَمتَ عَلَيْهِمْ کے گروہ میں داخل کرے۔" مستقل دعاؤں کی ضرورت (ملفوظات جلد 2 صفحہ 265-266) پس أَنْعَمْتَ عَلَيْهِم کے گروہ میں داخل ہونے کے لئے دعاؤں کی ضرورت ہے اور مستقل دعاؤں کی ضرورت ہے۔ایک یا دو دن کی دعاؤں کی نہیں۔پھر پاک تبدیلی اور آخرت کی فکر تقویٰ سے پیدا ہوتی ہے اور تقویٰ ہی انسان کو آخرت میں سرخرو کرتا ہے اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : " تقویٰ والے پر خدا کی ایک تجلی ہوتی ہے۔وہ خدا کے سایہ میں ہوتا ہے مگر چاہئے کہ تقویٰ خالص ہو اور اس میں شیطان کا کچھ بھی حصہ نہ ہو ورنہ شرک خدا کو پسند نہیں اور اگر کچھ حصہ شیطان کا ہو تو خد اتعالیٰ کہتا ہے کہ سب شیطان کا ہے۔خدا کے پیاروں کو جو دکھ آتا ہے وہ مصلحت الہی سے آتا ہے۔" خدا کے پیاروں کو بھی تکلیفیں یا پریشانیاں آتی ہیں لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی مصلحت ہوتی ہے اور نہ ساری دنیا اکٹھی ہو جائے تو ان کو ایک ذرہ بھر تکلیف نہیں دے سکتی۔" فرمایا" چونکہ وہ دنیا میں نمونہ قائم کرنے کے واسطے ہیں۔اس واسطے ضروری ہوتا ہے کہ خدا کی راہ میں تکالیف اٹھانے کا نمونہ بھی وہ لوگوں کو دکھائیں ورنہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھے کسی بات میں اس سے بڑھ کر ترود نہیں ہو تا کہ اپنے ولی کی قبض روح کروں۔اللہ تعالیٰ تو یہ بھی نہیں چاہتا کہ اپنے ولی کو فوت کرے۔" خد اتعالیٰ نہیں چاہتا کہ اس کے ولی کو کوئی تکلیف آوے مگر ضرورت اور مصالح کے واسطے وہ دکھ دیئے جاتے ہیں اور اس میں خود ان کے لئے نیکی ہے کیونکہ ان کے اخلاق ظاہر ہوتے ہیں۔دکھ دیئے جاتے ہیں تو اس دکھ میں، تکلیف میں اُن سے بجائے جزع فزع کرنے کے، شور مچانے کے ان کے اعلیٰ اخلاق ظاہر ہوتے ہیں۔فرمایا کہ " انبیاء اور اولیاء اللہ کے لئے تکلیف اس قسم کی نہیں ہوتی۔جس میں اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضگی کا اظہار ہوتا ہے بلکہ انبیاء شجاعت کا ایک نمونہ قائم کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ کو اسلام کے ساتھ کوئی دشمنی نہ تھی مگر دیکھو جنگ اُحد میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے رہ گئے۔اس میں یہی بھید تھا کہ