خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 294
خطبات مسرور جلد 14 294 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مئی 2016 عرصہ پہلے میں ایک سپر مارکیٹ میں جارہا تھا۔وہاں ایک شخص نے مجھے پوچھا کہ کیا میں مسلمان ہوں۔اس پر میں نے اسے بتایا کہ نہیں، میں مسلمان نہیں ہوں۔عیسائی ہوں۔وہ مجھے کہنے لگا کہ اگر تم عیسائی ہو تو جہنم میں جاؤ۔پس کہتا ہے مسلمانوں کی یہ سوچ ہے لیکن آپ لوگوں کی سوچ بالکل مختلف ہے۔یہ باتیں آپ احمدیوں میں نظر نہیں آتیں۔ایک مہمان جو مالمو یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں کہنے لگے خلیفہ کا خطاب نہایت اثر رکھنے والا تھا۔امن، پیار محبت، رواداری کا نہایت مثبت اور عالمی پیغام ہمیں دیا ہے۔اسی طرحLund University Malmö میں اسلامیات کے پروفیسر بھی آئے ہوئے تھے۔کہنے لگے کہ خلیفہ کا خطاب نہایت دلچسپ اور اپنے اندر اثر رکھنے والا تھا۔خطاب ختم ہونے کے بعد میں نے دیکھا کہ لوگ خطاب کے حوالے سے ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے اور سب لوگ ہی اس سے بہت متاثر نظر آرہے تھے۔بعض لوگوں نے تو اس خطاب کی نقل مہیا کئے جانے کا مطالبہ بھی کیا۔کہنے لگے کہ میں نے دیکھا کہ سب لوگ یہاں اکٹھے تھے جس شخص نے یہاں پر سنیوں کی پہلی مسجد تعمیر کی تھی وہ بھی اس تقریب میں آیا ہوا تھا۔یہودی بھی اس تقریب میں تھے۔عیسائی بھی تھے۔دیگر مذاہب والے بھی تھے۔سویڈش ادارے " چرچ آف سینٹالوجی " کے چیف برائے انفارمیشن بھی آئے ہوئے تھے۔کہنے لگے: خلیفہ نے اپنی تقریر میں ایک فقرہ جو کہا مجھے بہت زیادہ اچھا لگا اور وہ فقرہ یہ تھا کہ ایک بڑے فائدے کی خاطر ہمیں اپنے ذاتی مفادات کو ایک طرف کرنا چاہئے۔ایک دوست مائیکل جن کے والدین پولش ہیں، سویڈن میں رہتے ہیں کہنے لگے کہ تقریر ہر لحاظ سے مکمل تھی۔اس میں امن اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کا پیغام تھا۔انہوں نے افریقہ کا اور افریقہ میں اسکول اور جو دوسری سہولیات مہیا کی جارہی ہیں، ان کا ذکر بھی کیا۔کہنے لگا کہ میں خدا پر یقین رکھتا ہوں مگر یہاں پر اکثر لوگ، جو دوسرے لوگ ہیں وہ عموما نہیں رکھتے اس لئے میں بہت فخر محسوس کر رہا ہوں کہ ایسا شخص سویڈن آیا جو خدا پر اور ایک خالق پر پختہ یقین رکھتا ہے۔خطاب کے سننے کے بعد اب میں اسلام سے نہیں ڈر تا بلکہ صرف شدت پسندوں سے ڈرتا ہوں۔مجھ پر یہ واضح ہو گیا کہ یہ دونوں آپس میں جداجدا ہیں۔پھر ایک مہمان مسلمان حسین عبد اللہ صاحب یوگو سلاویہ سے تھے۔کہنے لگے کہ خلیفہ کے الفاظ نے مجھے چھو لیا ہے اور میں ان کی ہر بات سے اتفاق کرتا ہوں۔انہوں نے اسلام کا اس طرز پر دفاع کیا جو دوسرے مسلمان نہیں کر سکتے۔رواداری اور دوسروں کی مدد پر زور دیا اور کہا کہ اسلام کی تعلیم ہے کہ ہم سب ضرورتمندوں کی مدد کریں۔کہنے لگے کہ اب میں جماعت احمدیہ پر فخر کرتا ہوں۔لوگوں کے اسلام کے بارے میں غلط تاثرات ہیں اور یہ کوئی آسان کام نہیں ہے کہ ان کو درست کیا جائے مگر خلیفہ اس کام میں سب سے آگے ہیں۔