خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 293 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 293

خطبات مسرور جلد 14 293 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مئی 2016 ایک یہودی مہمان نے کہا کہ آج کا یہ دن میرے لئے بہت معلوماتی تھا کیونکہ میں نے اسلام کے بارے میں بہت کچھ سیکھا ہے۔کہنے لگے کہ اس دنیا میں اسلام کے بارے میں بہت زیادہ منفی سوچ پائی جاتی ہے اور ہم سب مسلمانوں کی شدت پسندی سے ڈرتے ہیں۔اس لئے میں ایک مسلمان رہنما کے صرف اور صرف پیار کے پیغام کو سن کر حیران رہ گیا۔کہنے لگے کہ انہوں نے کہا کہ آپ کو خدا کی عبادت کرنی چاہئے مگر ساتھ ہی انسانیت سے محبت بھی کرنی چاہئے۔کہنے لگے خلیفہ نے مجھے ایسا محسوس کروایا کہ مسلمان بھی ہمارے بھائی ہیں اور اس سے میرے دل میں فلسطینیوں کے لئے رحمدلی بڑھی اور یہ خیال گزرا کہ شاید ان میں سے سب برے نہیں ہیں۔بہر حال اپنا قصور تو کوئی نہیں مانتا لیکن انہوں نے یہ تسلیم کر لیا کہ ہمیں رحم دکھانا چاہئے۔ایک خاتون جو عیسائی پریسٹ ہیں، ہسپتال میں کام کرتی ہیں۔کہنے لگیں کہ میرا خیال ہے کہ یہ بالکل درست بات ہے کہ یہاں مالمو میں اور یورپ میں لوگ مسلمانوں سے اور مسجدوں سے خوفزدہ ہیں اور خلیفہ نے امن کے متعلق اور لوگوں کی ذمہ داریوں کے بارے میں اس حوالے سے کہ ذمہ داریاں کیا ہیں بڑی اہم باتیں کی ہیں۔انہوں نے ہمیں ایک مسجد کے مقاصد کے بارے میں بتایا اور میں امید کرتی ہوں کہ وہ دوسروں کو ان مقاصد کے بارے میں قائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔یقیناً انہوں نے مجھے تو قائل کر لیا ہے۔مسجد کے مقاصد کا یہ موضوع بہت ضروری تھا اور اس کا ہر لفظ با معنی اور گہرا تھا۔پھر کہنے لگیں کہ انہوں نے پیغام دیا کہ ایک دوسرے سے خوف نہیں کرنا چاہئے بلکہ ایک دوسرے کو سمجھنا چاہئے اور ایک دوسرے کے خیالات بانٹنے چاہئیں۔پھر کہنے لگیں حقیقت تو یہ ہے کہ آپ کے خلیفہ کی تقریر نے مجھے ہلا دیا ہے۔میں بہت جذباتی ہو گئی ہوں۔آج میں نے ایک مسلمان سر براہ کو صرف امن کے بارے میں بولتے سنا اور انہوں نے مجھے بتایا کہ اسلام انسانیت کی خدمت کا مذہب ہے۔ان کی تقریر کا بہترین حصہ یہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ انسانیت کو اپنے خالق کو پہچانا ہو گا اور خدا اپر پختہ یقین رکھنا چاہئے۔یہی میرا بھی نظریہ ہے۔مالمو شہر کے میئر اینڈرسن صاحب نے کہا کہ ایڈریس میں قیام امن کی یقین دہانی کروائی بلکہ اس شہر اور علاقہ میں تعمیر ہونے والی مسجد کے حقیقی مقاصد بھی بیان کئے۔پس اس مسجد کو ہم اس شہر میں قیام امن اور انٹیگریشن کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ایک صحافی نے کہا: بڑی حیرت ہے کہ اس مسجد کے اخراجات جماعت کے لوگوں نے اپنی جیب سے ادا کئے۔یہ بات میرے لئے نہایت حیرت کا باعث تھی کیونکہ یہ کوئی معمولی رقم نہیں تھی بلکہ تیس ملین کرونر کی بات ہے۔پھر کہنے لگے آپ لوگوں نے سارا کام خود کیا۔بڑی کامیابی ہے۔بہت متاثر ہوں۔یہ کہنے لگے کہ دہشتگر دی اور ظلم و ستم کے واقعات دیکھتا ہوں مگر آپ لوگ ان سے مختلف ہیں۔انہوں نے اپنا واقعہ سنایا۔کہنے لگے کہ ایک