خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 292
خطبات مسرور جلد 14 292 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مئی 2016 ایک ڈینش سیاستدان کم لو فہوم (Kim Lofholm) نے کہا کہ یہ میرا پہلا موقع تھا کہ میں کسی خلیفہ سے ملا ہوں اور ان سے ملنے کا تجربہ میری زندگی میں کسی اور مسلمان سے ملنے سے بالکل مختلف تھا۔بتانے والے کو انہوں نے جو کہا ( یہ تھا کہ ) آپ کے امام اسلام کے بارے میں وہ بات کرتے ہیں جو دوسرے عرب مسلمان نہیں کرتے جن سے میں ملا ہوا ہوں۔آپ کے خلیفہ یہ بات بہت واضح کرتے ہیں کہ اسلام تمام مذاہب کو آزادی دیتا ہے۔کہنے لگے دنیا کو خلیفہ کی آواز سننے کی ضرورت ہے۔ان کے الفاظ کو دُور دُور تک پھیلنا چاہئے۔شاید آپ ایک چھوٹی سی جماعت ہوں مگر آپ کا پیغام بہت بڑا ہے۔پھر کہنے لگے یہ تقریب بہت معلوماتی تھی۔مثلاً میں نے محمد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کے بارے میں جانا مثلاً یہ کہ انہوں نے عیسائیوں کو اپنی مسجد میں عبادت کرنے دی اور یہ بھی کہ وہ ہر قسم کے anti semitism کے خلاف تھے۔امریکن ایمبیسی کے نمائندہ کہنے لگے کہ خلیفہ نے اسلام کا حقیقی چہرہ دکھایا۔لوگ برسلز اور پیرس کے حملوں کے بعد اسلام سے ڈرنے لگ گئے تھے مگر خلیفہ نے واضح کیا کہ اس دہشتگردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔اسلام ایک حکمت اور امن کا پیغام ہے۔میں ایمبیسیڈر کو تمام نکات بتاؤں گا جن کا خلیفہ نے ذکر کیا ہے اور ان سنگین موضوعات کا بھی بتاؤں گا جن کا خلیفہ نے ذکر کیا ہے یعنی آزادی رائے اور یہ کہ آجکل لوگوں کو آپس میں اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے۔ایک ڈینش مہمان جو ٹیچر ہیں، کہنے لگیں: آج میں نے اسلام کے بارے میں بہت کچھ سیکھا ہے اور میں اپنے طلباء کو جا کر وہ سب کچھ بتاؤں گی جو میں نے آپ کے خلیفہ کو کہتے سنا۔کہنے لگیں کہ بہت سے لوگ اسلام سے خوفزدہ ہیں مگر خلیفہ سے میں نے یہ سیکھا ہے کہ ہمیں اسلام سے نہیں بلکہ دہشتگردی اور شدت پسندی سے رکنا چاہئے اور اسلام اور دہشتگردی دونوں ایک دوسرے سے جدا ہیں۔کہنے لگیں کہ مجھے لگا تھا کہ میں اسلام کو جانتی ہوں مگر حقیقت میں مجھے کچھ نہیں پتا تھا مثلاً مجھے یہ نہیں پتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیسائیوں اور یہودیوں سے نیک سلوک کرتے تھے۔اس بات نے مجھے بہت جذباتی کر دیا۔ان کی تقریر بہت متوازن تھی۔بعض مسلمانوں اور غیر مسلموں جن کے اعمال برے ہیں ان سب پر بھی انہوں نے تنقید کی۔ایک مہمان نے کہا کہ خطاب جس انداز میں پیش کیا میں نے دیکھا۔آپ نے دیگر مقررین کی بات کو بھی بہت غور سے سنا۔پھر کہنے لگیں کہ تیسری جنگ عظیم کے بارے میں آپ کی باتیں بہت بصیرت افروز تھیں۔ان کو سن کر میں تھوڑا گھبر ابھی گئی ہوں مگر آپ کے خطاب سے ہی پھر ایک قسم کی تسکین محسوس ہوئی۔مالمو میں بھی مسجد کے افتتاح میں 140 سے زائد سویڈش مہمان اور ممبران پارلیمنٹ، مالموسٹی کے میئر، پولیس چیف، سٹی چرچ کے نمائندے، یونیورسٹیوں کے پروفیسر اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہوئے۔