خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 291
خطبات مسرور جلد 14 291 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مئی 2016 اظہار جس طرح کیا گیا بڑی واضح تھیں اور یہ ایسی اقدار ہیں جنہیں ہم سب کو اپنانا چاہئے۔اور کہنے لگے (کہ خلیفہ نے) مجھ پر اور تمام حاضرین پر یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام ایک پر امن مذہب ہے اور یہ قرآن کی آیات کے حوالوں سے ثابت کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور ان کے خلفاء کی مثالوں سے ثابت کیا اور یہ مجھے بڑا اچھا لگا اور جماعت احمدیہ کے مقاصد کو بھی واضح کیا جس سے مجھے صحیح اسلام کو سمجھنے کا موقع ملا۔ایک اور مہمان نے اپنے جذبات کا اظہار اس طرح کیا کہ جس طریق پر انہوں نے ہماری نسل اور اس وقت در پیش مسائل کے بارے میں بات کی اور قرآن کو بنیاد بنا کر ان مسائل کا حل بتا یا وہ بہت ہی اعلیٰ تھا۔کم از کم مجھے آج سے پہلے ہر گز علم نہیں تھا کہ قرآن انصاف کے بارے میں اتنا کچھ کہتا ہے۔پھر کہنے لگے کہ اسلام کے بارے میں میرے نظریات بالکل بدل گئے ہیں۔پہلے مجھے صرف وہی پتا تھا جو میڈ یا بتا تا تھا مگر اب میں نے دوسری طرف کی حقیقت کو دیکھ لیا ہے۔پھر کہنے لگے خلیفہ وقت نے قرآن کی ایک آیت کا حوالہ دیا ہے جس میں یہ ذکر تھا کہ ان لوگوں سے بھی انصاف کرنا چاہئے جن کو انسان پسند نہیں کرتا۔اور یہ بھی اچھا لگا کہ انہوں نے بتایا کہ پہلے دور کے مسلمان تو یہود و نصاری سے پیار کا سلوک کرتے تھے۔اس بات نے میرے دل پر بہت گہرا اثر کیا۔پھر ہیومنسٹ سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کہتی ہیں۔پر امن پیغام کے بارے میں لوگوں کو بہت کم معلومات ہیں۔میڈیا صرف بری چیزوں کو سامنے لاتا ہے اور اچھی چیزوں کے بارے میں کچھ نہیں بتاتا۔ڈنمارک کا سارا میڈیا آج یہاں موجود ہونا چاہئے تھا اور میں اپنے ملک کے لوگوں کے اس رویے سے بہت مایوس ہوئی ہوں۔پھر ایک ڈینش خاتون ہیں۔وہ کہنے لگیں کہ مجھے اسلام کے بارے میں کچھ نہیں پتا تھا مگر آج میں نے بہت کچھ سیکھا اور میں خوش ہوں کہ اس لحاظ سے آپ کے خلیفہ میرے استاد ہیں۔میں مانتی ہوں کہ اسلام پر امن مذہب ہے۔پھر یہ کہنے لگیں کہ میری خواہش ہے کہ لوگ ان کے پیغام پر توجہ دیں۔میں چاہتی ہوں کہ اس تقریر کاڈ نیش ترجمہ مل جائے تاکہ میں اسی طرح سے سب الفاظ جذب کر سکوں اور دوسروں کو بھی بتا سکوں۔پھر انہوں نے کہا کہ خلیفہ کا پیغام پورے ڈنمارک میں پھیلانا چاہئے۔ہمیں ان کے پیغام کو ماننا ہو گا اور ان سے سیکھنا ہو گا۔مجھے لگتا تھا کہ سارے مسلمان پر تشدد ہوتے ہیں مگر اب مجھے ایسے خیالات رکھنے پر بہت شرم محسوس ہو رہی ہے۔اکثریت ان میں سے اچھی ہے مگر میڈیا نے ہمارے ذہن بھر دیئے ہیں۔پھر کہا میرے شوہر مجھے آج صبح یہاں آنے سے منع کر رہے تھے کیونکہ انہیں لگ رہا تھا کہ وہاں کوئی حملہ ہو جائے گا یا کوئی خود کش حملہ ہو جائے گا مگر میں نے انہیں آنے پر مجبور کیا کیونکہ میں متجسس تھی اور اب وہ خوش ہیں کہ وہ بھی آگئے۔(دونوں میاں بیوی آئے ہوئے تھے) کہنے لگیں بلکہ وہ تو کافی جذباتی ہو گئے ہیں۔پھر کہنے لگی میں تو یہ کہوں گی کہ جو دعوت کے باوجود نہیں آیا وہ بڑا بیوقوف ہے۔