خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 290
خطبات مسرور جلد 14 290 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مئی 2016 مجبور کر دیا ہے، خاص طور پر اس بارے میں کہ اسلام کی تصویر جو میڈیا میں دکھائی جاتی ہے وہ حقیقت سے بہت مختلف ہے۔پھر کہنے لگا کہ میں ان کی کسی بات پر کوئی تنقید نہیں کر سکتا کیونکہ ان کی ساری باتیں ہی پیار محبت اور ایک دوسرے کے احترام کے متعلق تھیں اور انہوں نے کہا کہ یہی چیزیں امن کی کنجی ہیں۔پھر کہنے لگا کہ انہوں نے ہمیں ایک اور عالمی جنگ کے خطرے کے بارے میں بتایا اور میں اب پریشان ہوں۔میں نے پہلے بھی ایک دو لوگوں سے سنا ہے کہ ہم عالمی جنگ کے قریب ہیں مگر میں نے اس پر یقین نہیں کیا تھا مگر آج میر اخیال بدل گیا ہے۔مجھے اب اس کو سنجیدگی سے لینا ہے اور کہا کہ خلیفہ نے اسے ایسے انداز میں پیش کیا ہے کہ مجھے سوچنا پڑے گا۔پھر ایک مہمان خاتون اپنے جذبات کا اظہار کرتی ہیں کہ یہ باتیں سوچنے پر مجبور کر دینے والی تھیں لیکن ایک لحاظ سے پریشان کن بھی تھیں کیونکہ انہوں نے مستقبل کے بارے میں ایک بہت سنگین تصویر کھینچی۔انہوں نے ہمیں جنگ کے خطرات کے بارے میں خبر دار کیا۔انہوں نے کہا کہ امن کے لئے کوشش کرنے کا ابھی وقت ہے ورنہ ہم بعد میں پچھتائیں گے۔پھر ایک صاحبہ نے ، ڈینش مہمان تھیں کہا کہ آج سے پہلے میں اسلام کے بارے میں منفی باتیں ہی جانتی تھی مگر آج میں نے جو سناوہ اچھا اور محبت سے بھر اہو اپیغام تھا۔میں نے سیکھا کہ ISIS اسلام نہیں ہے اور اسلام کی تعلیم تو یہ ہے کہ تمام مذاہب کی عبادتگاہوں کی رکھوالی کرنی چاہئے۔ایک اور ڈینیش مہمان نے کہا: ایسے آدمی سے ملی جس نے یہ ثابت کر کے دکھایا کہ میڈیا کے ذریعہ سے اسلام کی جو تصویر دکھائی جارہی ہے وہ غلط ہے۔میں بہت جذباتی اور پر جوش ہو گئی ہوں۔میں ایک ایسے شخص سے ملی جس نے مجھے جہاد کا مطلب بتایا۔میڈیا کی آزادی رائے اور دنیا میں امن کے توازن کو بر قرار رکھنے کے بارے میں ان کی باتیں مجھے بہت اچھی لگیں۔پھر ایک ڈینش مہمان کہنے لگے کہ خلیفہ نے اپنے خطاب میں قرآن کے حوالے دیئے۔اسی بات سے پتا چلتا ہے کہ ان کے الفاظ خود ساختہ نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی تھے۔کہنے لگے ان باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مغرب میں مسلمانوں کے لئے انٹیگریشن (Integration) ممکن ہے۔کیونکہ انہوں نے بتایا کہ اسلام مغربی اقدار کے خلاف نہیں ہے کیونکہ امن، رواداری اور دوسرے کی عزت کرنا مشتر کہ اقدار ہیں۔پھر کہنے لگے سچ کہوں تو ڈینش لوگ مسلمانوں سے اور ان جنگوں سے جو مشرق وسطی میں ہو رہی ہیں بہت ڈرتے ہیں مگر کم از کم آج کے بعد ہمیں یہ تو پتا چل گیا ہے کہ وہاں پر جو ہو رہا ہے وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی یا ان کے مذہب کی غلطی نہیں بلکہ ان کی تعلیم کو بگاڑا گیا ہے۔یونیورسٹی کے ایک طالبعلم تھے کہتے ہیں کہ ان کے تقریر کے نکات بڑے واضح تھے۔اسلام کی اقدار کا