خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 289
خطبات مسرور جلد 14 289 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مئی 2016 تسکین Sten Hoffman ایک ڈینش مہمان تھے۔کہنے لگے کہ خلیفہ کی تقریر سن کر مجھے بہت زیادہ تر ہوئی اور خوشی ہوئی ہے کہ آج کے اس دور میں ایسے پیغام کی نہایت اشد ضرورت تھی۔پھر کہنے لگے کہ اللہ کرے کہ سکینڈینیویا میں خلیفہ کے الفاظ بہترین رنگ میں سمجھے جائیں۔پھر وہاں کا ڈنمارک کا ایک شہر نا کسکو ہے۔وہاں سے کافی بڑی تعداد میں لوگ آئے ہوئے تھے۔اس شہر کے میئر بھی، سیاستدان بھی اور دوسرے پڑھے لکھے لوگ بھی۔وہاں کی کونسل کے ایک ممبر تھے ، وہ کہتے ہیں کہ خلیفہ کی تقریر بہت اثر رکھتی تھی۔مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ لاکھوں مسلمان بغیر کسی خوف کے محض دنیا میں امن کے قیام کی خاطر ایک روشن مینار کی طرح کھڑے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو جماعت احمدیہ سے منسلک ہیں۔پھر ایک مہمان نے کہا: تقریر کے بعد میرے میز پر بیٹھے تمام لوگ اسلام کو صحیح سمجھنے کے حوالے سے بات کر رہے تھے۔لوگ کہہ رہے تھے کہ یقینا یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ اسلام اس خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔خاص طور پر ڈینش لوگ تو اسلام کے ایک پہلو کو ہی جانتے ہیں۔یہ لوگ جانتے ہی نہیں کہ اسلام کے اندر مختلف فرقے بھی موجود ہیں جو امن چاہتے ہیں۔کہنے لگے میرے نزدیک یہ بتانا بہت ضروری ہے اور مجھے یقین ہے کہ آج اس تقریب میں شامل تمام مہمان ایک نئے عزم کے ساتھ گھر جائیں گے اور خاص طور پر ڈنمارک میں جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا غلط رنگ میں خاکہ بنایا گیا تھا اور پہلی بنیاد وہیں پڑی تھی۔تو ان کو میں نے یہی کہا تھا کہ اس سے نفرتیں پید اہوں گی، امن خراب ہو گا، تباہی اور بربادی آئے گی اور تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔اور اس بات کو انہوں نے تسلیم کیا کہ گو کہ یہ ایشو ایسا ہے جو ہمارے لئے بڑا حسّاس ہے کہ ان خاکوں پر بات کی جائے لیکن جس طریقے سے تم نے سمجھایا ہے ہمیں بڑی اچھی طرح سمجھ آگئی ہے۔ایک مہمان نے کہا کہ آج کے خطاب کے بعد لوگوں کی مسلمانوں کے بارے میں رائے ضرور تبدیل ہو گی۔کہنے لگا کہ اب میں نے اسلام کو بہتر سمجھنے کے لئے ایک قرآن کریم بھی منگوایا ہے جس میں حاشیے بھی موجود ہیں اور آج کی شام کے بعد مجھے اپنی کم علمی کا بھی احساس ہوا ہے۔کہنے لگے کہ میں قرآن کریم بھی پڑھوں گا۔جیسا کہ میں نے کہانا کس کو سے لوگ آئے تھے جب وہ تقریب کے بعد واپس جارہے تھے تو ایک مہمان نے لکھا کہ ہم ہزاروں بار آپ کا بڑا شکر یہ ادا کرتے ہیں۔کہتے ہیں یہ کانفرنس زندگی بھر کے لئے ایک یاد گار لمحہ کے طور پر ہمیشہ یاد رہے گی، تجربے کے طور پر یاد رہے گی۔کہنے لگے کوپن ہیگن سے ناکسکو واپسی تک کوچ میں ایک خاص ماحول تھا۔تمام سفر اس کا نفرنس کے بارے میں باتیں ہوتی رہیں اور ہر ایک اس بات سے متفق تھا کہ ہم نے ایک بہت اچھادن گزارا ہے اور ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔ایک صحافی نے اپنے جذبات کا اظہار اس طرح کیا کہ بہت کچھ سیکھا اور خلیفہ کی تقریر نے مجھے سوچنے پر