خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 288
خطبات مسرور جلد 14 288 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مئی 2016 رہے ہو یا لوگوں کو قریب لانے کی کوشش کر رہے ہو اور بعد میں جب تمہاری طاقت ہو جائے، حکومتوں پر قبضہ کرو تو شاید یہ تمہارا مقصد ہو جس کے لئے تم نے یہ طریق کار اختیار کیا۔سٹاک ہوم(Stockholm) یونیورسٹی کے اسلامیات کے ایک پروفیسر نے بھی ایک موقع پر اس قسم کا سوال کیا تو میں نے اسے جو جواب دیا یہ جواب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس شعر میں ہے کہ مجھ کو کیا ملکوں سے میر املک ہے سب سے جدا مجھ کو کیا تاجوں سے میرا تاج ہے رِضوان یار (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 141) اور یہی خلافت احمدیہ اور جماعت احمدیہ کا مقصد ہے۔اس سفر میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے میڈیا کے ساتھ بھی کافی انٹرویو ہوئے۔غیروں کے ساتھ مالمو مسجد کے افتتاح کے علاوہ ڈنمارک اور سٹاک ہوم میں دو receptions بھی ہوئیں جس میں اسلام اور قرآن کریم کی صحیح تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ حسنہ اور خلفاء راشدین کے نمونوں کے حوالے سے باتیں ہوئیں تو اکثر نے بر ملا اس بات کا اظہار کیا کہ آج ہمیں اسلام کی حقیقی تعلیم کا پتا چلا ہے اور ہمیشہ یہی ہوا ہے۔اور دنیا میں آجکل جماعت احمدیہ کے ذریعہ سے مختلف جگہوں پر امن کے نام پر جو بھی مجالس ہوتی ہیں، کا نفرنسیں ہوتی ہیں، سمپوزیم ہوتے ہیں ان میں لوگ یہی اظہار کرتے ہیں اور آج دنیا میں ایک ہی طرح اور ایک ہی موضوع پر اور اپنی پوری کوشش کے ساتھ مغرب میں بھی اور مشرق میں بھی شمال میں بھی جنوب میں بھی ہر جگہ یہی کوشش کی جارہی ہے اور وہ اس لئے کہ جماعت احمد یہ خلافت کے ساتھ وابستہ ہے اور اس کی ہدایات پر کام کرتی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا اکثر لوگوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ حقیقی تعلیم کا ہمیں اب پتا چلا ہے اور آج ہمیں جماعت احمدیہ کے خلیفہ سے اسلام کی حقیقی تعلیم کا علم ہوا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد جاری نظام خلافت نے نہ صرف ماننے والوں کی رہنمائی کی اور کرتا ہے یا خلافت رہنمائی کرتی ہے بلکہ دوسروں کو، غیر وں کو، اسلام کے مخالفین کو یا اسلام سے خوف کھانے والوں کو بھی صحیح اسلامی تعلیم کے نمونے دکھاتی ہے۔غیروں پر ہمارے فنکشن میں آکر کیا اثر ہوتا ہے ؟ اس وقت اس کے چند نمونے میں پیش کرتا ہوں۔ڈنمارک میں ہوٹل میں ایک ریسیپشن (reception) تھی جس میں ممبر آف پارلیمنٹ بھی آئے تھے۔وہاں کے کلچر اور مذہب کے منسٹر بھی تھے، میئر اور سیاستدان بھی، مختلف علمی شخصیات بھی اور ایمبیسیوں کے نمائندے بھی آئے تھے۔انہوں نے اس فنکشن کو سنا، دیکھا اور بلا تخصیص ساروں نے اظہار کیا کہ ہمیں اسلام کی صحیح تعلیم کا علم ہوا ہے۔