خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 287
خطبات مسرور جلد 14 287 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مئی 2016 بلکہ عملی طور پر کرو تا خدا بھی عملی طور پر اپنا لطف و احسان تم پر ظاہر کرے۔" فرمایا: "کینہ وری سے پر ہیز کرو اور بنی نوع سے سچی ہمدردی کے ساتھ پیش آؤ۔ہر ایک راہ نیکی کی اختیار کرو۔نہ معلوم کس راہ سے تم قبول کئے جاؤ۔" (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 308) پس اگر ہم توحید پر قائم رہیں اور بنی نوع کی ہمدردی میں ترقی کرتے رہیں، خلافت احمدیہ کے ساتھ وابستہ رہیں تو پھر وہ تمام ترقیات جن کا اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وعدہ فرمایا ہے انہیں بھی ہم دیکھنے والے ہوں گے۔اس بات کی بھی اللہ تعالیٰ سے خبر پاکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں خوشخبری دی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کر دے گا۔تم خدا کے ہاتھ کا ایک بیج ہو جو زمین میں بویا گیا۔خدا فرماتا ہے کہ یہ پیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر ایک طرف اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا۔" (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 309) پس اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قائم کردہ جماعت نے ترقی کرنی ہے یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ہم میں سے ہر ایک کو اپنے جائزے لینے ہوں گے کہ ہم حقوق اللہ اور حقوق العباد کے لئے کیا کر رہے ہیں۔دنیا کی نظر ہماری طرف ہے اللہ تعالیٰ نے بھی یہ کام ہمارے سپر د کیا ہے کہ توحید کو قائم کریں۔خود بھی اللہ تعالیٰ کے قریب ہوں اور دنیا کو بھی اپنے پیدا کرنے والے واحد و یگانہ خدا کے قریب کرنے کی کوشش کریں اور انسانیت کی قدروں کو قائم کریں۔گزشتہ دنوں میں سکینڈمینوین (Scandinavian) ممالک کے دورے پر تھا تو وہاں بعض اخباری نمائندوں نے اور دوسرے پڑھے لکھے لوگوں نے بھی یہ سوال پوچھا کہ تمہارے مقاصد کیا ہیں۔میں ان کو یہی بتاتا رہا کہ خلافت احمدیہ اور جماعت احمدیہ کے مقاصد وہی ہیں جس کو حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا تھا اور وہ یہی ہیں کہ بندے کو خدا تعالیٰ کے قریب کرنے کے لئے پوری کوشش کرنا اور بنی نوع انسان کے حق ادا کرنا۔اس سے زیادہ ہمارا کوئی مقصد نہیں ہے۔کیونکہ آج کی دنیا میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا خدا تعالیٰ کو بھول رہی ہے اور عموماً خدمت انسانیت کے نام پر اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے خدمت کی جاتی ہے۔جس سے مزید بے چینیاں پید اہو رہی ہیں اور ملکوں اور قوموں کے تعلقات میں دُوریاں پید اہو رہی ہیں۔اس دور میں یہ بات دنیا داروں کو بڑی مشکل سے سمجھ آتی ہے کہ بغیر اپنے مفادات کے صرف خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کس طرح تم لوگ یہ کام کر سکتے ہو۔ابھی شاید ان لوگوں کا، دنیا داروں کا خیال ہوتا ہے کہ محبت پیار کے نام پر تم احمدی لوگ جو ہو، دوسروں کے قریب آ