خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 6 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 6

خطبات مسرور جلد 14 6 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2016 وہ ایک شکنجہ میں ہوتا ہے " جب موت کی ایسی حالت ہوتی ہے۔" اس لئے انسان کی تمام تر سعادت یہی ہے کہ وہ موت کا خیال رکھے۔" جب موت کا وقت قریب ہوتا ہے، نزع کی حالت میں ہوتا ہے یاویسے ہی حالت طاری ہوتی ہے تو اصل چیز فرمایا یہی ہے۔یہ بہت بڑی چیز ہے اس کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے اور فرمایا کہ سعادت یہی ہے کہ وہ موت کا خیال رکھے " اور دنیا اور اس کی چیزیں اس کی ایسی محبوبات نہ ہوں جو اس آخری ساعت میں علیحدگی کے وقت اس کی تکالیف کا موجب ہوں۔" اور جب یہ یاد ہو گا تو پھر انسان نیکیاں بجالانے کی کوشش کرے گا۔پھر بلاوجہ کے تماشوں میں نہ پیسہ ضائع کرے گانہ وقت ضائع کرے گا۔نہ بے جاخو اہشات کی تکمیل کے لئے ان چیزوں کا ضیاع کرے گا۔پھر پاک تبدیلی پیدا کرنے کے بارے میں آپ فرماتے ہیں: ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 146-147) "پس بے خوف ہو کر مت رہو۔استغفار اور دعاؤں میں لگ جاؤ اور ایک پاک تبدیلی پیدا کرو۔اب وہ غفلت کا وقت نہیں رہا۔انسان کو نفس جھوٹی تسلی دیتا ہے کہ تیری عمر لمبی ہو گی۔موت کو قریب سمجھو۔خدا کا وجود بر حق ہے۔جو ظلم کی راہ سے خدا کے حقوق کسی دوسرے کو دیتا ہے وہ ذلت کی موت دیکھے گا۔" فرمایا: " اب جیسا کہ سورۃ فاتحہ میں تین گروہ کا ذکر ہے ان تین کا ہی مزہ چکھا دے گا۔اس میں جو آخر تھے وہ مقدم ہو گئے یعنی ضالین۔" یعنی کہ ضالین جو سورۃ فاتحہ میں آخر میں آتا ہے لیکن یہاں مسلمانوں کی مثال دیتے ہوئے آپ فرمارہے ہیں کہ وہ پہلے ہو گئے اور اس بارے میں مثال یہ فرمارہے ہیں کہ " اسلام وہ تھا کہ ایک شخص مرتد ہو جا تا تھا تو قیامت برپا ہو جاتی تھی مگر اب " آپ کے زمانے میں " بیس لاکھ عیسائی ہو چکے ہیں "اسلام چھوڑ کے " اور خود ناپاک ہو کر " اسلام چھوڑنے کی وجہ سے خود نا پاک ہوئے ہیں اور بجائے اس کے کہ اپنی ناپاکی کا احساس ہو " پاک وجود کو گالیاں دی جاتی ہیں۔" یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بولا جاتا ہے۔پھر فرمایا پھر مغضوب کا نمونہ طاعون سے دکھایا جارہا ہے۔یہ جو طاعون ہے یہ بھی آفت ہے۔یہ ان لوگوں پر پڑتی ہے جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہو۔آجکل اس زمانے میں بھی طوفان ہیں، زلزلے ہیں اور اور مختلف قسم کی آفتیں ہیں۔یہ سب اگر انسان سوچے تو اللہ تعالیٰ کے غضب نازل ہو رہے ہیں اور یہی چیزیں پھر انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف لے کر آتی ہیں، احساس دلاتی ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکے اور اس غضب کی حالت سے بچے۔فرمایا کہ " اس کے بعد انعمت علیہم کا گروہ ہو گا۔یہ قاعدہ کی بات ہے اور خدا کی قدیم سے سنت چلی آتی ہے کہ جب وہ کسی قوم کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ یہ کام نہ کرنا تو اس قوم میں سے ایک گروہ ضرور خدا کی خلاف ورزی کرتا ہے۔" جب قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا یا اب بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کام نہیں کرنا تو اس