خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 284 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 284

خطبات مسرور جلد 14 284 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 مئی 2016 رہے گا اس لئے جب تک میری جان نہیں نکل جاتی اس وقت تک میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں تیرے سے بچ گیا۔پس یہ ہے وہ معیار اولیاء اللہ کا جو نمونے انہوں نے ہمارے سامنے قائم کئے۔شیطان کی تو یہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح اللہ تعالیٰ کے ولیوں کے بھی انجام بد کر کے انہیں جہنم میں ڈلوائے۔پس ایک مومن کے لئے تو بڑا خوف کا مقام ہے۔ایک عام آدمی کے لئے لا پرواہی کا کوئی لمحہ جو ہے وہ اسے شیطان کے قبضے میں لے جاسکتا ہے اور اس کے لئے ہمیشہ تو بہ اور استغفار بھی کرتے رہنا چاہئے۔پھر شیطان کے انسان پر حملے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے ایک اور جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : " شیطان انسان کو گمراہ کرنے کے لئے اور اس کے اعمال کو فاسد بنانے کے واسطے ہمیشہ تاک میں لگارہتا ہے۔یہاں تک کہ وہ نیکی کے کاموں میں بھی اس کو گمراہ کرنا چاہتا ہے اور کسی نہ کسی قسم کا فساد ڈالنے کی تدبیریں کرتا ہے۔" کس طرح؟ مثلاً " نماز پڑھتا ہے تو اس میں بھی ریاو غیرہ کوئی شعبہ فساد کا ملانا چاہتا ہے۔" انسان نماز پڑھ رہا ہے ، نیکی کا کام ہے لیکن شیطان اس کے دل میں کوئی نہ کوئی دکھاوے کی بات ڈالنا چاہتا ہے تاکہ فساد پید اہو ، تا کہ نماز خالص نہ رہے۔پھر فرمایا کہ " ایک امامت کرانے والے کو بھی اس بلا میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔پس اس کے حملہ سے کبھی بے خوف نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس کے حملے فاسقوں، فاجروں پر تو کھلے کھلے ہوتے ہیں " جو فاسق اور فاجر لوگ ہیں، دنیا میں ڈوبے ہوئے ہیں، بگڑے ہوئے ہیں، دین سے ہٹے ہوئے ہیں ان پر تو کھلے کھلے حملے ہوتے ہیں" وہ تو اس کا گویا شکار ہیں۔لیکن زاہدوں پر بھی حملہ کرنے سے وہ نہیں چوکتا۔" جو نیک لوگ ہیں، زاہد ہیں ان پر بھی حملے کرنے سے نہیں ہلتا " اور کسی نہ کسی رنگ میں موقع پا کر ان پر حملہ کر بیٹھتا ہے۔" فرمایا کہ "جو لوگ خدا کے فضل کے نیچے ہوتے ہیں اور شیطان کی باریک در بار یک شرارتوں سے آگاہ ہوتے ہیں وہ تو بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہیں لیکن جو ابھی خام اور کمزور ہوتے ہیں وہ کبھی کبھی مبتلا ہو جاتے ہیں۔" (ملفوظات جلد 6 صفحہ 426) پس مومن کو ہر وقت اللہ تعالیٰ سے دعا اور استغفار کرنی چاہئے کہ وہ شیطان کی ہر شرارت سے ہمیں بچائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام استغفار کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: " اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے استغفار کا التزام کرایا ہے کہ انسان ہر ایک گناہ کے لئے خواہ وہ ظاہر کا ہو خواہ باطن کا، خواہ اسے علم ہو یا نہ ہو اور ہاتھ اور پاؤں اور زبان اور ناک اور کان اور آنکھ اور سب قسم کے گناہوں سے استغفار کرتا رہے۔" فرمایا کہ " آجکل آدم علیہ السلام کی دعا پڑھنی چاہئے۔" وہ دعا کیا ہے ؟ " رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ (الاعراف:24)" یعنی کہ اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔اگر تو ہم کو نہ بخشے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو ہم (ملفوظات جلد 4 صفحہ 275)