خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 283 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 283

خطبات مسرور جلد 14 283 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 مئی 2016 کا کام جن کے سپر د ہے، اپنے قول و فعل کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں اور اللہ تعالیٰ سے خالص ہو کر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے کسی کو شیطان کی جھولی میں نہ جانے دے بلکہ کسی طرح بھی کوئی فرد جماعت بھی شیطان کے پیچھے چلنے والا نہ ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسی خالص ہو کر کی گئی دعاؤں کو میں سنوں گا اور تمہاری بھی اور ان لوگوں کی بھی رہنمائی کرتارہوں گا جن پر شیطان حملے کرتا ہے تا کہ تم ان حملوں سے بچ سکو ورنہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کے آگے جھکے بغیر شیطان کے حملے سے بچنا ممکن نہیں ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی مدد تلاش کرو۔جیسا کہ میں نے کہا کہ شیطان نے تو اللہ تعالیٰ سے کہا تھا کہ اگر تُو مجھے زبر دستی نہ روکے اور مجھے ڈھیل دے تو میں انسانوں کو ور غلاؤں گا اور اس کے لئے بھر پور کوشش کروں گا۔اس کوشش میں شیطان کہاں تک جاتا ہے ؟ ایک عام مومن تو ایک طرف رہا، شیطان تو اللہ تعالیٰ کے ولیوں کو بھی آخر وقت تک قابو میں کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اس کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ مرتے مرتے بھی کوئی ایسا عمل کر جائیں جہاں سے یہ میرے قابو میں آجائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں کسی شخص نے ایک خواب کا ذکر کیا۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خواب سننے کے بعد اسے فرمایا کہ یہ خواب ایک عجیب بات پر ختم ہوا ہے۔شیطان انسان کو طرح طرح کے تمثلات سے دھو کہ دینا چاہتا ہے مگر معلوم ہوا ہے کہ تمہارا نتیجہ بہت اچھا ہے کیونکہ اس رؤیا کا اختتام اچھی جگہ پر واقع ہوا ہے۔جو شخص اپنی خواب سنارہا تھا اس کی خواب کا جو اختتام تھا اس سے یہ نظر آتا ہے کہ وہاں آخر میں انجام یہ ہوا کہ شیطان سے بچ گیا۔شیطان نے حملہ کیا تھا۔پھر حضرت مسیح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اکثر ایسا ہوا کرتا ہے کہ شیطان کے حملوں سے اگر انسان بچنے کی کوشش کرے تو بچتا ہے یا اللہ تعالیٰ کا فضل ہو تو ہوتا ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ ایک ولی اللہ کا تذکرہ لکھا ہے کہ جب ان کا انتقال ہوا تو ان کا آخری کلمہ یہ تھا کہ ابھی نہیں، ابھی نہیں۔جب وہ ولی اللہ مرنے لگے تو مرتے مرتے جو اُن کی زبان پر تھاوہ یہ الفاظ تھے کہ ابھی نہیں، ابھی نہیں۔ایک ان کا مرید جو قریب تھا کلمہ سُن کر سخت متعجب ہوا اور ان کی وفات کے بعد رات دن رو رو کر دعائیں مانگنے لگا کہ یہ کیا معاملہ ہے جو یہ ولی اللہ یہ کہتے رہے کہ ابھی نہیں، ابھی نہیں۔خیر ایک دن خواب میں ان ولی اللہ سے ملاقات ہو گئی۔ان سے اس نے دریافت کیا کہ یہ آخری الفاظ کیا تھے اور آپ نے یہ کیوں کہا تھا ابھی نہیں ابھی نہیں۔اس ولی اللہ نے جواب دیا کہ شیطان چونکہ موت کے وقت ہر ایک انسان پر حملہ کرتا ہے تا کہ اس کا نور ایمان اخیر وقت پہ چھین لے اس لئے وہ حسب معمول میرے پاس بھی آیا اور مجھے مر تذ کرنا چاہا۔دین سے دور ہٹانا چاہا اور میں نے جب اس کا کوئی وار چلنے نہیں دیا تو مجھے کہنے لگا کہ تو میرے ہاتھ سے بچ گیا۔اس لئے میں نے کہا تھا کہ ابھی نہیں، ابھی نہیں۔یعنی جب تک میں مر نہ جاؤں مجھے تجھ سے اطمینان حاصل نہیں ہو سکتا۔بیشک تو ور غلا رہا ہے اور میں ہر طریقے سے بچ رہا ہوں لیکن جب تک جان ہے اس وقت تک تو ور غلا تا (ماخوذ از ملفوظات جلد 5 صفحہ 306)