خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 285
خطبات مسرور جلد 14 285 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 مئی 2016 نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔پھر ایک جگہ ہمیں نصیحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ : عزیز و اخد اتعالیٰ کے حکموں کو بے قدری سے نہ دیکھو۔موجودہ فلسفے کی زہر تم پر اثر نہ کرے۔ایک بچے کی طرح بن کر اس کے حکموں کے نیچے چلو۔نماز پڑھو، نماز پڑھو کہ وہ تمام طاقتوں کی کنجی ہے۔اور جب تو نماز کے لئے کھڑا ہو تو ایسانہ کر کہ گویا کہ رسم ادا کر رہا ہے بلکہ نماز سے پہلے جیسے ظاہر وضو کرتے ہو ایسے ہی باطنی وضو بھی کرو اور اپنے اعضاء کو غیر اللہ کے خیال سے دھوڈالو۔ظاہری طور پر تو اپنے اعضاء پانی سے دھوتے ہو اپنے دل کو، اپنے اعضاء کو باطنی طور پر بھی ہر قسم کے اللہ کے غیر سے دھو ڈالو۔تب تم دونوں وضوؤں کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور نماز میں بہت دعا کرو اور رونا اور گڑ گڑانا اپنی عادت کرو تا تم پر رحم کیا جائے۔سچائی اختیار کرو، سچائی اختیار کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ہمیشہ ہر معاملے میں سچائی اختیار کرو۔ہر معاملے میں یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے۔وہ تمہیں دیکھ رہا ہے کہ تمہارے دل کیسے ہیں۔کیا انسان اس کو بھی دھوکہ دے سکتا ہے ؟ کیا اس کے سامنے بھی مکاریاں پیش جاتی ہیں ؟ نہایت بد بخت آدمی اپنے فاسدانہ افعال اس حد تک پہنچاتا ہے کہ گویا خدا نہیں۔تب وہ بہت جلد ہلاک کیا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کو اس کی کچھ بھی پرواہ نہیں ہوتی۔فرمایا عزیز و! اس دنیا کی مجرد منطق ایک شیطان ہے اور اس دنیا کا خالی فلسفہ ایک ابلیس ہے۔صرف منطق اور Logic اور وجہ، یہ جو چیزیں ہیں یہ سب شیطانی با تیں ہیں۔صرف یہی چیزیں نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ کو بھی تلاش کرنا ہو گا۔فرمایا جو ایمانی نور کو نہایت درجہ گھٹا دیتا ہے۔صرف منطق اور فلسفے کے اوپر چلو گے تو پھر ایمانی نور گھٹ جائے گا اور بے باکیاں پیدا کرتا ہے اور قریب قریب دہریت تک پہنچاتا ہے۔سو تم اس سے اپنے آپ کو بچاؤ اور ایسا دل پیدا کر وجو غریب اور مسکین ہو اور بغیر چون چرا کے حکموں کو ماننے والے ہو جاؤ۔بغیر کسی چون چرا کے اللہ تعالیٰ حکموں کو ماننے والے بنو۔جیسا کہ بچہ اپنی والدہ کی باتوں کو مانتا ہے۔قرآن کریم کی تعلیمیں تقویٰ کے اعلیٰ درجہ تک پہنچاتی ہیں۔ان کی طرف کان دھر واور ان کے موافق اپنے آپ کو بناؤ۔(ماخوذ از ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 549) اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم شیطان کے قدموں پر چلنے سے بچنے والے ہوں۔خد اتعالیٰ کے آگے جھکتے ہوئے، اس سے مددمانگتے ہوئے اس کے حکموں پر چلنے والے ہوں۔قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنے والے ہوں اور اس بات پر شکر ادا کرنے والے ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے اس فرستادے کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی جس نے شیطان کو شکست دینی ہے۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے ہوئے عہد بیعت کا حق ادا کرتے ہوئے شیطان کے ہر حملے کو ناکام و نامراد کرنے والوں میں شامل ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 10 جون 2016 ء تا 16 جون 2016ء جلد 23 شمارہ 24 صفحہ 05 تا 08)