خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 282 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 282

خطبات مسرور جلد 14 282 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 مئی 2016 لیکن زیادہ تر شکایتیں عموماً نوجوان لڑکیوں کو ہوتی ہیں کہ لجنہ کی تنظیم میں پندرہ سال کے بعد سب لڑکیاں جو ہیں وہ لجنہ میں شامل ہوتی ہیں، ایک ہی تنظیم ہے اور بعض بڑی عمر کی عور تیں اور خاص طور پر عہد یدار بچیوں سے جو رویے رکھتی ہیں وہ بچیوں کو اگر دین سے دُور نہیں تو مجلس کے پروگراموں سے ضرور دُور کر رہی ہوتی ہیں۔پس عہدیدار اپنے رویے ایسے رکھیں کہ پیار سے انہیں دین کے ساتھ جوڑیں، مسجد کے ساتھ جوڑیں، اپنی مجلس کے ساتھ جوڑیں، جماعت کے ساتھ جوڑیں ورنہ شیطان تو اس تاک میں ہے کہ کہاں کوئی کمزور ہو ، کہاں کسی کو کسی عہدیدار کے خلاف کوئی شکوہ پید اہو اور میں حملہ کر کے اسے اپنے قابو میں کروں۔ا ہم نے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا ہے تو اس وجہ سے کہ اس زمانے میں مسیح موعود کے ذریعہ سے شیطان کے ساتھ آخری جنگ ہے۔لیکن اگر ہم اپنے عمل سے شیطان کو موقع دے رہے ہیں کہ ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو عہدیداروں کے رویوں کی وجہ سے شیطان ہمدردی جتا کر اپنے قابو میں کر لے تو پھر ایسے عہد یدار چاہے وہ مرد ہیں یا عورتیں، مسیح موعود کے مددگار نہیں ہیں بلکہ شیطان کے مدد گار ہیں۔پس ہر عہد یدار کو خاص طور پر یہ کوشش کرنی ہے کہ اس نے اپنے آپ کو بھی شیطان کے حملوں سے بچانا ہے اور جماعت کے افراد کو بھی بچانا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے جو فضل کیا ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔اسی طرح ہر ذی شعور، عقل والے احمدی کو ، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ان پر اللہ تعالیٰ نے فضل فرماتے ہوئے یہ احسان کیا ہے کہ انہیں احمدیت قبول کرنے کی توفیق دی یا احمدی گھرانے میں پیدا کیا۔مسیح موعود کو ماننے کی توفیق دی جس کے آنے کی خوشخبری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی جس نے اس زمانے میں شیطان کو شکست دینی ہے۔اس لئے اس نے کسی اپنے سے بڑے یا نام نہاد بزرگ یا عہدیدار کے رویے کی وجہ سے اپنے آپ کو دین سے دُور نہیں لے جانا بلکہ شیطان کو شکست دینے میں مسیح موعود کا مدد گار بننا ہے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں سمیع اور علیم ہوں، سننے والا ہوں اور علم رکھنے والا ہوں۔جانتا ہوں کہ تم میں شیطان کے حملوں کا کتنا خوف ہے۔جانتا ہوں کہ تم اس سے بیچنے کے لئے کوشش اور دعا کر رہے ہو۔اس لئے میں تمہاری دعاؤں کو سنوں گا۔تم دعا کرو۔ایسے ماحول سے بھی محفوظ رہو جو بعض دفعہ ایسے خیالات پیدا کر دیتا ہے۔اس دعا کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو اس ماحول سے بھی بچاؤ جس سے انسان شیطان کی باتوں میں آجاتا ہے اور دعا کرو کہ تم شیطان کے حملوں سے ہمیشہ محفوظ رہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نیک نیتی سے کی گئی کوشش اور دعائیں اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوں گی اور شیطان سے تم محفوظ رہو گے۔اسی طرح خاص طور پر وہ جن کے سپر د دینی خدمت کا کام کیا گیا ہے، افراد جماعت کی رہنمائی اور تربیت