خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 281 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 281

خطبات مسرور جلد 14 281 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 مئی 2016 کے لئے ویب سائٹ بھی عطا فرمائی۔اگر ہم اپنی زیادہ توجہ اس طرف کریں تو پھر ہی ہماری توجہ اس طرف رہے گی جس سے ہم اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے والے ہوں گے اور شیطان سے بچنے والے ہوں گے۔تفریح کے لئے اگر دوسرے ٹیلی ویژن چینل دیکھنے بھی ہیں تو پھر اس بات کی احتیاط کرنی چاہئے کہ خود ماں باپ بھی اس کی احتیاط کریں اور بچوں کی بھی نگرانی کریں کہ پھر وہ پروگرام دیکھیں جو شریفانہ ہوں۔جہاں بھی بیہودگی اور گند ہے اس سے بچیں کہ یہ صرف بے حیائی اور نا پسندیدہ باتوں کی طرف لے جاتے ہیں۔اُس طرف لے جاتے ہیں جہاں سے اللہ تعالیٰ سے دوری پیدا ہوتی ہے لیکن اس بات کو ہر احمدی گھر کو یہ لازمی اور ضروری بنانا چاہئے کہ تمام گھر کے افراد مل کر ہر ہفتے کم از کم ایم ٹی اے پر خطبہ ضرور سنا کریں اور اس کے علاوہ کم از کم ایک گھنٹہ روزانہ ایم ٹی اے کے دوسرے پروگرام بھی دیکھیں۔جن گھروں میں اس پر عمل ہو رہا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے نظر آتا ہے کہ پورا گھرانہ دین کی طرف مائل ہے۔بچے بھی دین سیکھ رہے ہیں اور بڑے بھی دین سیکھ رہے ہیں۔جو بھی اس پر عمل کرے گا اس سے یقیناً جہاں دینی فائدہ حاصل ہو گا، اس سے شیطان سے بھی دُوری ہو گی۔اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی طرف توجہ ہو گی۔اس سے گھروں کے سکون بھی ملیں گے اور اس میں برکت بھی پیدا ہو گی جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا میں ہمیں سکھایا۔ایک ماں نے مجھے لکھا کہ میرا بیٹا سترہ سال تک تو ٹھیک رہا، نمازیں وغیرہ بھی پڑھتا تھا، مجلس کے کاموں میں دلچسپی لیتا تھا لیکن اب بڑے ہو کر جب اس کو تھوڑی آزادی ملی اور اس کے دوست ایسے ہیں جن کی وجہ سے وہ دین سے بالکل دُور ہٹ گیا۔یہ ٹھیک ہے کہ ایک عمر میں لڑکوں پر ماحول کا اثر ہو سکتا ہے، لیکن اگر ماں باپ کے بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں، اچھے برے کی تمیز انہیں بتائی جائے، گھر کے ماحول کو دیندار بنایا جائے اور اب تو جیسا کہ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیاوی طور پر اگر تفریح کے سامان دیئے ہوئے ہیں تو انہی تفریح کے سامانوں میں تربیت کے سامان بھی عطا فرما دیئے ہیں۔یہ سب اگر اکٹھے بیٹھ کر دیکھ رہے ہوں، ان سے فائدہ اٹھارہے ہوں اور بچوں کو یہ احساس ہو کہ گھر میں ان بچوں کی اہمیت ہے تو پھر وہ باہر نہیں نکلیں گے، بیہودگیوں میں نہیں پڑیں گے، باہر ان کو سکون کی تلاش نہیں ہو گی بلکہ اپنے گھروں میں ہی سکون دیکھیں گے۔پھر ماں باپ کا یہ بھی فرض ہے کہ بچوں کو مسجد سے جوڑیں، ذیلی تنظیموں کے پروگرام میں شامل کروائیں۔یہاں میں ذیلی تنظیموں سے بھی کہوں گا اور جماعتی نظام سے بھی بلکہ ذیلی تنظیمیں خاص طور پر اس لئے کہ انہوں نے اپنے ممبران کو سنبھالنا ہے۔ہر ایک مخصوص طبقہ ہے، زیادہ آسانی سے سنبھال سکتے ہیں۔خدام نے خدام کو سنبھالنا ہے۔لجنہ نے لجنہ کو سنبھالنا ہے۔خاص طور پر اطفال اور نوجوان خدام کو سنبھالنا ضروری ہے۔ناصرات اور نوجوان لجنہ کو سنبھالناضروری ہے۔ذیلی تنظیموں کی یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ انہیں جماعت کے ساتھ مضبوطی سے جوڑیں۔خدام اپنی ایسے خدام کی ٹیمیں بنائیں جو مختلف مزاج کے لوگوں، نوجوانوں کو اپنے ساتھ جوڑنے والے ہوں۔