خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 280
خطبات مسرور جلد 14 280 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 مئی 2016 کے ذریعہ سے یا آئی پیڈ (IPad) کے ذریعہ سے، ان میں مبتلا کرتا چلا جاتا ہے۔اس پر پہلے اچھے پروگرام دیکھے جاتے ہیں۔کس طرح اس کی attraction ہے۔پہلے اچھے پروگرام دیکھے جاتے ہیں پھر ہر قسم کے گندے اور مخرب الاخلاق پروگرام اس سے دیکھے جاتے ہیں۔کئی گھروں میں اس لئے بے چینی ہے کہ بیوی کے حق بھی ادا نہیں ہو رہے اور بچوں کے حق بھی ادا نہیں ہو رہے اس لئے کہ مرد رات کے وقت ٹی وی اور انٹر نیٹ پر بیہودہ پروگرام دیکھنے میں مصروف رہتے ہیں اور پھر ایسے گھروں کے بچے بھی اسی رنگ میں رنگین ہو جاتے ہیں اور وہ بھی وہی کچھ دیکھتے ہیں۔پس ایک احمدی گھرانے کو ان تمام بیماریوں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مومنین کو شیطان کے حملوں سے بچانے کی کس قدر فکر ہوتی تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح اپنے صحابہ کو شیطان سے بچنے کی دعائیں سکھاتے تھے اور کیسی جامع دعائیں سکھاتے تھے ، اس کا ایک صحابی نے یوں بیان فرمایا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھلائی کہ اے اللہ ! ہمارے دلوں میں محبت پیدا کر دے۔ہماری اصلاح کر دے اور ہمیں سلامتی کی راہوں پر چلا۔اور ہمیں اندھیروں سے نجات دے کر نور کی طرف لے جا۔اور ہمیں ظاہر اور باطن فواحش سے بچا۔اور ہمارے لئے ہمارے کانوں میں ، ہماری آنکھوں میں ، ہماری بیویوں میں اور ہماری اولادوں میں برکت رکھ دے اور ہم پر رجوع بر حمت ہو۔یقیناً تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔اور ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر کرنے والا اور ان کا ذکر خیر کرنے والا اور ان کو قبول کرنے والا بنا اور اے اللہ ہم پر ر نعمتیں مکمل فرما۔(سنن ابو داؤد کتاب الصلاة باب التشهد حديث 969) پس یہ دعا ہے جو دنیاوی غلط تفریح سے بھی روکنے کے لئے ہے۔دوسری ہر قسم کی فضولیات سے روکنے کے لئے ہے۔شیطان کے حملوں سے روکنے کے لئے ہے۔آج بھی دنیا میں تفریح کے نام پر مختلف بیہودگیاں ہو رہی ہیں۔جب انسان کانوں، آنکھوں میں برکت کی دعا کرے گا، جب سلامتی حاصل کرنے اور اندھیروں سے روشنی کی طرف جانے کے لئے دعا کرے گا، جب بیویوں کے حق ادا کرنے کی دعا کرے گا، جب اولاد کے قرۃ العین ہونے کی دعا کرے گا تو پھر بیہودگیوں اور فواحش کی طرف سے توجہ خود بخود ہٹ جائے گی اور یوں ایک مومن پورے گھر کو شیطان سے بچانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔پس جس دور میں سے ہم گزر رہے ہیں اور کسی ایک ملک کی بات نہیں بلکہ پوری دنیا کا یہ حال ہے۔میڈیا نے ہمیں ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے اور بد قسمتی سے نیکیوں میں قریب کرنے کی بجائے شیطان کے پیچھے چلنے میں زیادہ قریب کر دیا ہے۔ایسے حالات میں ایک احمدی کو بہت زیادہ بڑھ کر اپنی حالتوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایم ٹی اے عطا فرمایا ہے ، اللہ تعالیٰ نے ہمیں جماعت کے روحانی، علمی پروگراموں