خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 279
خطبات مسرور جلد 14 279 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 مئی 2016 کے نام پر ، مرد اور عورت کی آپس میں واقفیت پیدا ہوتی ہے جو بعض دفعہ پھر برے نتائج کی حامل بن جاتی ہے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسی عورتوں کے گھروں میں جانے سے بھی منع فرمایا کرتے تھے جن کے خاوند گھر پر نہ ہوں اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑ رہا ہے۔(سنن الترمذى كتاب الرضاع باب ما جاء في كراهية الدخول على المغيبات حديث 1172) اسی حکم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اصولی حکم ارشاد فرما دیا کہ نامحرم کبھی آپس میں آزادانہ جمع نہ ہوں کیونکہ اس سے شیطان کو اپنا کام کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔پس اس معاشرے میں احمدیوں کو خاص طور پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے جہاں آزادی کے نام پر لڑکی لڑکے کا آزادانہ ملنا اور علیحدگی میں ملنا کوئی عار نہیں سمجھا جاتا۔پھر صرف نادان لڑکے لڑکیوں کی وجہ سے برائیاں نہیں پید اہو رہی ہو تیں بلکہ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ شادی شدہ لوگوں میں بھی آزادی اور دوستی کے نام پر گھروں میں آنا جانا، بلاروک ٹوک آناجانا مسائل پیدا کرتا ہے اور گھر اجڑتے ہیں۔اس لئے ہمیں جن پر اللہ تعالیٰ نے یہ احسان فرمایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کی توفیق دی ہے، اسلام کے ہر حکم کی حکمت ہمیں سمجھائی ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر بغیر کسی قسم کے سوال اور تردد کے عمل کرنا چاہئے۔برائیوں میں سے آجکل ٹی وی، انٹرنیٹ وغیرہ کی بعض برائیاں بھی ہیں۔اکثر گھروں کے جائزے لے لیں۔بڑے سے لے کر چھوٹے تک صبح فجر کی نماز اس لئے وقت پر نہیں پڑھتے کہ رات دیر تک یا تو ٹی وی دیکھتے رہے یا انٹر نیٹ پر بیٹھے رہے، اپنے پروگرام دیکھتے رہے، نتیجہ صبح آنکھ نہیں کھلی۔بلکہ ایسے لوگوں کی توجہ بھی نہیں ہوتی کہ صبح نماز کے لئے اٹھنا ہے۔اور یہ دونوں چیزیں اور اس قسم کی فضولیات ایسی ہیں کہ صرف ایک آدھ دفعہ آپ کی نمازیں ضائع نہیں کرتیں بلکہ جن کو عادت پڑ جائے ان کا روزانہ کا یہ معمول ہے کہ رات دیر تک یہ پروگرام دیکھتے رہیں گے یا انٹرنیٹ پر بیٹھے رہیں گے اور صبح نماز کے لئے اٹھنا ان کے لئے مشکل ہو گا بلکہ اٹھیں گے ہی نہیں۔بلکہ بعض ایسے بھی ہیں جو نماز کو کوئی اہمیت ہی نہیں دیتے۔نماز جو ایک بنیادی چیز ہے جس کی ادائیگی ہر حالت میں ضروری ہے حتی کہ جنگ اور تکلیف اور بیماری کی حالت میں بھی۔چاہے انسان بیٹھ کے نماز پڑھے ، لیٹ کر پڑھے یا جنگ کی صورت میں یا سفر کی صورت میں قصر کر کے پڑھے لیکن بہر حال پڑھنی ہے۔اور عام حالات میں تو مردوں کو باجماعت اور عورتوں کو بھی وقت پر پڑھنے کا حکم ہے۔لیکن شیطان صرف ایک دنیاوی پروگرام کے لالچ میں نماز سے دور لے جاتا ہے اور اس کے علاوہ انٹر نیٹ بھی ایک ایسی چیز ہے جس میں مختلف قسم کے جو پروگرام ہیں، پھر ایپلی کیشنز (Applications) ہیں، فون وغیرہ