خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 278
خطبات مسرور جلد 14 278 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 مئی 2016 دو۔کچھ نہیں ہو گا۔باقی کام تو تم اسلام کی تعلیم کے مطابق کر ہی رہی ہو۔لیکن اس وقت پر دہ اتارنے والی لڑکی اور عورت کو یہ خیال نہیں رہتا کہ یہ تو ایسا حکم ہے جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے۔عورت کی حیا اس کا حیادار لباس ہے۔عورت کا تقدس اس کے مردوں سے بلا وجہ کے میل ملاقات سے بچنے میں ہے۔اس معاشرہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسی، احمدی لڑکیاں بھی ہیں جو اُن کے پردہ پر مردوں کی طرف سے اعتراض پر انہیں منہ توڑ کر جواب دیتی ہیں کہ ہمارا فعل ہے۔ہم جو پسند کرتی ہیں ہم کر رہی ہیں۔تم ہمیں پر دے اتارنے پر مجبور کر کے ہماری آزادی کیوں چھین رہے ہو ؟ ہمیں بھی حق ہے کہ اپنے لباس کو اپنے مطابق پہنیں اور اختیار کریں۔لیکن بعض ایسی بھی ہیں جو باوجو د احمدی ہونے کے یہ کہتی ہیں کہ اس معاشرے میں پردہ کرنا اور سکارف لینا بہت مشکل ہے، ہمیں شرم آتی ہے۔ماں باپ کو بھی بچپن سے لڑکیوں میں یہ باتیں پیدا کرنی چاہئیں کہ شرم تمہیں اسلامی تعلیم پر عمل نہ کر کے آنی چاہئے نہ کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو مان کر۔اس طرح لڑکوں میں بھی آزاد معاشرے کی وجہ سے بعض برائیاں ہیں جو خاموشی سے داخل ہوتی ہیں اور پھر جب ایک برائی میں ایسے لڑکے ملوث ہو جاتے ہیں تو دوسری برائیاں بھی ان میں آنی شروع ہو جاتی ہیں، اس میں بھی ملوث ہو جاتے ہیں۔پس شیطان سے بچنے کے لئے تو گھروں میں ہی ایسے مورچے بنانے کی ضرورت ہے کہ اس کے ہر حملے سے نہ صرف بچا جائے بلکہ اس کے حملے کا اسے جواب بھی دیا جائے۔شیطان کے پیار کو پیار سمجھ کر اسے زندگی میں داخل نہ کریں بلکہ ہر وقت استغفار کرتے ہوئے اللہ تعالی کی پناہ میں آنے کی ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے۔شیطان سے بچنے کی سب سے بڑی پناہ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔پس اس بگڑے ہوئے زمانے میں استغفار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ استغفار ہی وہ ذریعہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں انسان آسکتا ہے۔کوئی انسان بھی جانتے بوجھتے ہوئے کسی برائی کی طرف نہیں جاتا۔یہ فطرت کے خلاف ہے کہ ایک بات کا پتا ہو کہ اس سے نقصان ہونا ہے تو پھر بھی انسان اس چیز کو کرنے کی کوشش کرے۔ایک حقیقی مومن کو تو اللہ تعالیٰ نے ویسے بھی کھول کر برائی اور اچھائی کے متعلق بتا دیا ہے۔پس برائیوں اور اچھائیوں کی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی تعلیم کے مطابق تلاش کر کے ان سے بچنے اور کرنے کی کوشش انسان کو کرنی چاہئے۔شیطان کو علم ہے کہ جب تک انسان خد اتعالیٰ کی پناہ میں ہے، اس کے حصار میں ہے، اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا۔اس لئے شیطان انسان کو اس پناہ سے نکال کر ، اس قلعے سے نکال کر جس میں انسان محفوظ ہے پھر اپنے پیچھے چلاتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ سے نکالنے کے لئے پہلے شیطان نیکیوں کا لالچ دے کر ہی انسان کو نکالتا ہے یا نیکیوں کا لالچ دے کر ہی ایک مومن کو اللہ تعالیٰ کی پناہ سے نکالا جاسکتا ہے۔بعض دفعہ نیکی کے نام پر ، انسانی ہمدردی کے نام پر، دوسرے کی مدد