خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 277 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 277

خطبات مسرور جلد 14 277 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 مئی 2016 پس اللہ تعالٰی مومنوں کو فرماتا ہے کہ اپنے اوپر ہر وقت نظر رکھو اور دیکھتے رہو کہ تم کہیں شیطان کے قدموں پر تو نہیں چل رہے۔چھوٹی چھوٹی باتوں کا انکار کر کے شیطان کے قدموں پر چل رہے ہو یا بڑے بڑے گناہ کر کے شیطان کے قدموں پر چل رہے ہو۔ضروری نہیں کہ صرف شدت پسند اور قاتل ہی شیطان کے قدموں پر چلنے والے ہیں جس کی مثال میں نے دی ہے بلکہ انسان جب اللہ تعالیٰ کے بظاہر کسی چھوٹے سے چھوٹے حکم سے بھی دور جاتا ہے تو شیطان کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے پس بہت زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔حقیقی مومن بننے کے لئے بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔شیطان جب حملے کرتا ہے اور جب انسانوں کو ورغلاتا ہے تو اس کا طریق ایسا نہیں ہے کہ انسان آسانی سے سمجھ جائے۔یا شیطان جب انسانوں کو ورغلاتا ہے ، برائیوں کی ترغیب دیتا ہے، اللہ تعالیٰ کے حکموں کی نافرمانی کی طرف لے جاتا ہے تو کھل کر یہ نہیں کہتا کہ یہ کرو، نافرمانی کرو، اللہ تعالیٰ سے دور جاؤ، یہ یہ برائیاں کرو۔بلکہ نیکی کی آڑ میں برائیوں کی طرف لے جاتا ہے۔شیطان نے آدم کو بھی جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے دور ہٹایا تھا تو نیکی کے حوالے سے ہی ہٹایا تھا۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے یہ اس بات پر بھی روشنی ڈال رہی ہے کہ برائیاں کس طرح پھیلتی ہیں اور کس طرح برائی ایک سے دوسری جگہ پھیلتے پھیلتے ایک وسیع علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔شیطان کے قدموں پر جب انسان چلتا ہے، ایک قدم کے بعد دوسرے قدم پر جب انسان اپنے قدم جماتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ برائیوں کو پھیلا رہا ہے۔ابتدا میں ایک برائی بظاہر بہت چھوٹی سی لگتی ہے یا انسان سمجھتا ہے کہ اس برائی نے اسے یا معاشرے کو کیا نقصان پہنچانا ہے۔لیکن جب یہ وسیع علاقے میں پھیل جاتی ہے یا بڑی تعداد میں لوگ اسے کرنے لگ جاتے ہیں یا اس برائی سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں یا معاشرے کے ڈر سے اس کو برائی کہنے سے ڈرتے ہیں یا احساس کمتری میں آکر کہ شاید اس کے خلاف اظہار ہمیں معاشرے کی نظر میں گرانہ دے، وہ خاموش ہو جاتے ہیں یا عمل نہیں کرتے۔اس معاشرے کی بہت ساری باتیں ہیں جو معاشرے میں آزادی کے نام پر ہوتی ہیں اور حکومتیں بھی اس کو تسلیم کر لیتی ہیں لیکن وہ برائیاں ہیں۔مثلاً اس معاشرے میں ان لوگوں کی نظر میں بظاہر یہ ایک چھوٹی سی برائی ہے کہ پردہ سے عورت کے حقوق غصب ہوتے ہیں۔اس معاشرے میں اس پر دہ کے خلاف بہت کچھ کہا جاتا ہے اور ان کی نظر میں یہ کوئی برائی نہیں۔اس لئے اس بارے میں یہ کہتے ہیں کہ شریعت کے حکم کی ضرورت نہیں تھی۔بعض لڑکیاں احساس کمتری کا شکار ہو کر کہ لوگ کیا کہیں گے یا ان کے دوست اسے پسند نہیں کرتے یا سکول یا کالج میں سٹوڈنٹ یا ٹیچر بعض دفعہ پر دہ کا مذاق اڑا دیتے ہیں تو پر دہ کرنے میں ڈھیلی ہو جاتی ہیں۔شیطان کہتا ہے یہ تو معمولی سی چیز ہے۔تم کون سا اس حکم کو چھوڑ کر اپنے تقدس کو ختم کر رہی ہو۔معاشرے کی باتوں سے بچنے کے لئے اپنے دوپٹے، سکارف، نقاب اتار