خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 276 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 276

خطبات مسرور جلد 14 276 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 مئی 2016 اسلام کے بارے میں پڑھتے بھی ہیں تو صرف علم کی حد تک یا یہ بتانے کے لئے کہ ہمیں دین اور اسلام کے بارے میں پتا ہے جبکہ ان کا علم صرف سطحی اور کتابی ہوتا ہے۔بعض ایسے بھی ہیں جو اعتراض اور تنقید کی نظر سے قرآن کو پڑھتے ہیں اور اسلام کے بارے میں معلومات لیتے ہیں لیکن اس کی تعلیم اور خوبیوں سے کچھ سبق حاصل نہیں کرتے۔نہ ہی شیطان کے پنجے سے نکلتے ہیں۔نہ ہی انہیں خدا تعالیٰ کی تلاش ہے۔اور نہ ہی وہ اس تلاش کا شوق رکھتے ہیں۔ایسے لوگ تو شیطان کے پیچھے چلنے والے ہیں ہی لیکن ایسے بھی ہوتے ہیں جو ایمان کا دعویٰ کر کے اپنے آپ کو مومن کہہ کر پھر شیطان کے پیچھے چلنے والے ہیں یا لا شعوری طور پر بعض عمل کر کے یا اللہ تعالیٰ کی آغوش میں آنے کی پوری کوشش نہ کر کے شیطان کے قدموں پر چلنے والے بن جاتے ہیں یا بن سکتے ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ اس آیت میں مومنوں کو ہوشیار کر رہا ہے، انہیں فرما رہا ہے کہ شیطان کے قدموں پر نہ چلو۔مومنوں کو یہ تنبیہ ہے کہ یہ نہ سمجھو کہ ہم ایمان لے آئے ہیں، ہم نے اسلام قبول کر لیا اس لئے اب ہم بے فکر ہو گئے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ شیطان کے حملوں سے اور شیطان کی پیروی کرنے سے ہم بے فکرے ہو گئے ہیں۔نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اب بھی شیطان کا خطرہ اسی طرح ہے۔ایک مومن بھی شیطان کے پنجے میں گرفتار ہو سکتا ہے جس طرح ایک غیر مومن ہو سکتا ہے۔اس لئے ہر مومن کا فرض ہے کہ شیطان کے حملوں سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ یادرکھیں۔شیطان نے تو روز اول سے ابن آدم کو نیکی کے راستوں سے ہٹانے کی اجازت اللہ تعالیٰ سے اس دعوے کے ساتھ مانگی تھی کہ مجھے انسانوں کو ورغلانے اور پیچھے چلانے کی چھوٹ مل جائے تو میں ہر راستے پر بیٹھ کر ان کو ور غلاؤں گا اور مختلف حیلوں بہانوں سے انہیں اپنے پیچھے چلاؤں گا اور شیطان نے دعوی کیا تھا کہ اکثریت انسانوں کی میرے پیچھے چلے گی۔پس یہ سب کچھ آجکل ہم دنیا میں ہوتا دیکھ رہے ہیں حتی کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والے بھی شیطان کے پیچھے چل رہے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے وار ننگ دی تھی، تنبیہ کی تھی۔مثلاً قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ (النساء:94) جو شخص کسی مومن کو دانستہ قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہو گی۔اب آجکل جو کچھ مسلمان دنیا میں ہو رہا ہے یہ کیا ہے ؟ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کر کے شیطان کے پیچھے ہی چل رہے ہیں۔پھر مجموعی طور پر بھی بلا جو از کسی کا قتل جو شدت پسند مختلف حملوں میں کرتے ہیں، کسی کو بھی قتل کر رہے ہوں، یہ سب شیطانی فعل ہیں اور جہنم کی طرف لے جانے والے ہیں جبکہ شیطان کے بہکاوے میں آکر جنت میں جانے کے نام پر یہ سب کچھ کیا جاتا ہے۔شیطان تو یہ کہتا ہے یہ کام کرو تم جنت میں جاؤ گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ کام کرو گے تو جنت میں نہیں جاؤ گے، جہنم میں جاؤ گے کیونکہ تم شیطان کے پیچھے چل رہے ہو۔