خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 275 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 275

خطبات مسرور جلد 14 275 21 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 مئی 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 20 مئی 2016ء بمطابق 20 ہجرت 1395 ہجری شمسی بمقام مسجد ناصر۔گوٹن برگ۔سویڈن تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوَتِ الشَّيْطَنِ۔وَمَنْ يَتَّبِعْ خُطُوتِ الشَّيْطَنِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَلَوْلَا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ مَا زَكَى مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ أَبَدًا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُزَمِّي (النور:22) مَن يَشَاءُ وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو شیطان کے قدموں پر مت چلو۔اور جو کوئی شیطان کے قدموں پر چلتا ہے تو وہ یقینا بے حیائی اور ناپسندیدہ باتوں کا حکم دیتا ہے۔اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہو تو تم میں سے کوئی ایک بھی کبھی پاک نہ ہو سکتا۔لیکن اللہ جسے چاہتا ہے پاک کر دیتا ہے اور اللہ بہت سنے والا اور دائمی علم رکھنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے علاوہ بھی بنی آدم اور مومنوں کو شیطان سے بچنے اور اس کے قدم پر نہ چلنے کی ہدایت پر تنبیہ فرمائی ہے۔یہ حکم اس لئے ہے کہ شیطان خدا تعالیٰ کا نافرمان ہے۔اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مخالف چلتا ہے۔ان سے بغاوت کرتا ہے۔اور ظاہر ہے جو خدا تعالیٰ کا نافرمان اور اس کے حکموں کے خلاف چلنے والا ہو وہ اپنے پیچھے چلنے والوں کو بھی وہی کچھ سکھائے گا جو خود کرتا ہے اور پھر اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ شیطان خود تو جہنم کا ایندھن ہے ہی، اپنے پیچھے چلنے والوں کو بھی جہنم کا ایندھن بنادیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے شیطان کو واضح طور پر فرمایا ہے کہ تیرے پیچھے چلنے والوں کو جہنم سے بھروں گا، ان کا ٹھکانہ جہنم ہو گا۔یہ سب کچھ کھول کر بیان کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا انسانوں کو اس کے بعد بھی سمجھ نہیں آتی کہ شیطان تمہارا کھلا کھلا دشمن ہے۔پس اس دشمن سے بچو۔ایک تو وہ لوگ ہیں جن کو نہ دین کی کچھ پرواہ ہے، نہ ان کو یہ پتا ہے کہ جہنم کیا ہے اور جنت کیا ہے ؟ نہ ان کو خد اتعالیٰ کی ذات پر یقین ہے۔وہ نہ تو دین کی باتوں کو سمجھتے ہیں، نہ سمجھنا چاہتے ہیں۔یا اگر کچھ لوگ ان ملکوں میں