خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 5 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 5

خطبات مسرور جلد 14 5 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2016 پید اہو جاوے۔" یعنی دوری پید اہو جائے۔اللہ تعالیٰ سے تعلق ختم ہو جائے۔(ملفوظات جلد 2 صفحہ 101-102) پھر آپ فرماتے ہیں کہ : " میرے دل میں یہ بات آئی ہے کہ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ سے یہ ثابت ہے کہ انسان ان صفات کو اپنے اندر لے۔یعنی اللہ تعالیٰ کے لئے ساری صفتیں سزاوار ہیں جو رب العالمین ہے۔یعنی ہر عالم میں، نطفہ میں، مضغہ وغیر ہ سارے عالموں میں، غرض ہر عالم میں۔پھر رحمن ہے پھر رحیم ہے اور مالک یوم الدین ہے۔اب اِيَّاكَ نَعْبُدُ جو کہتا ہے تو گویا اس عبادت میں وہی ربوبیت، رحمانیت ، رحیمیت اور مالکیت صفات کا پر تو انسان کو اپنے اندر لینا چاہئے۔" یہ اللہ تعالیٰ کی جو صفات ہیں ان کو اپنے اندر بھی اختیار کرنا چاہئے فرمایا کہ "کمال عبد انسان کا یہی ہے کہ تَخَلَّقُوا بِاخْلَاقِ اللهِ یعنی اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہو جاوے" ان صفات کو اپنائے اور جب تک اس مرتبہ تک نہ پہنچ جاوے نہ تھکے نہ ہارے۔اس کے بعد خود ایک کشش اور جذب پیدا ہو جاتا ہے جو عبادت الہی کی طرف اسے لے جاتا ہے۔" یہ حالتیں، یہ صفات پید اہوں گی تو پھر عبادت الہی کی طرف توجہ پیدا ہو گی اور عبادت الہی انسان کی زندگی کا مقصد ہے " اور وہ حالت اس پر وارد ہو جاتی ہے جو يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ کی ہوتی ہے۔" ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 132-133) اس بارے میں فرماتے ہوئے کہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔اس لئے ہمیشہ اپنی موت کو سامنے رکھو۔تبھی اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل بھی ہو سکتا ہے۔تبھی انسان ان صفات کو بھی اپنا سکتا ہے فرمایا کہ: کسی کو کیا معلوم ہے کہ ظہر کے بعد عصر کے وقت تک زندہ رہے۔بعض وقت ایسا ہو تا ہے کہ یکد فعہ ہی دورانِ خون بند ہو کر جان نکل جاتی ہے۔بعض دفعہ چنگے بھلے آدمی مر جاتے ہیں۔" ایک واقعہ کا ذکر فرماتے ہیں۔فرمایا کہ "وزیر محمد حسن خاں صاحب ہوا خوری کر کے آئے تھے اور خوشی خوشی زینے پر چڑھنے لگے۔ایک دو زینے چڑھے ہوں گے کہ چکر آیا، بیٹھ گئے۔نوکر نے کہا کہ میں سہار ا دوں۔کہا نہیں۔پھر دو تین زینے چڑھے پھر چکر آیا اور اسی چکر کے ساتھ جان نکل گئی۔ایسا ہی ایک اور شخص کا ذکر فرمایا " غلام محی الدین کو نسل کشمیر کا ممبر یکدفعہ ہی مر گیا۔" فرمایا" غرض موت کے آجانے کا ہم کو کوئی وقت معلوم نہیں ہے کہ کس وقت آجاوے۔اسی لئے ضروری ہے کہ اس سے بے فکر نہ ہوں۔پس دین کی غم خواری ایک بڑی چیز ہے جو سکرات الموت میں سرخرور کھتی ہے۔قرآن شریف میں آیا ہے۔اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْيٌّ عَظِيمُ (الحج:02) ساعت سے مراد قیامت بھی ہو گی ہم کو اس سے انکار نہیں مگر اس میں سکرات الموت ہی مراد ہے کیونکہ انقطاع تام کا وقت ہو تا ہے۔انسان اپنے محبوبات اور مرغوبات سے یکدفعہ الگ ہوتا ہے اور ایک عجیب قسم کا زلزلہ اس پر طاری ہو تا ہے۔گویا اندر ہی اندر