خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 272 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 272

خطبات مسرور جلد 14 272 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 مئی 2016 مقابلہ میں اخلاق فاضلہ میں ترقی کرے۔گندے اور فضول اخلاق جو ہیں، بد اخلاقیاں جو ہیں ان کو چھوڑے اور عمدہ اور اعلیٰ اخلاق کو نہ صرف اختیار کرے بلکہ اس میں ترقی کرے۔فرمایا لوگوں سے مروت، خوش خلقی، ہمدردی سے پیش آوے۔" یہ ہیں اخلاق۔یہ ہے تقویٰ کہ لوگوں سے بھی محبت اور پیار سے پیش آؤ۔خوش اخلاقی سے پیش آؤ۔ان سے ہمدردی کر و قطع نظر اس کے کہ وہ کون ہے۔ہر ایک سے چاہے وہ مسلمان ہے، غیر مسلم ہے، اپنا ہے، غیر ہے۔خدا تعالیٰ کے ساتھ کچی وفا اور صدق دکھلاوے۔خدمات کے مقام محمود تلاش کرے۔" ایسے کام وہ کرے کہ اللہ تعالیٰ کی پسندیدگی کی نگاہ اس پر پڑے۔فرمایا ان باتوں سے انسان متقی کہلاتا ہے اور جو لوگ ان باتوں کے جامع ہوتے ہیں " جن میں یہ سب باتیں جمع ہو جاتی ہیں۔"وہی اصل متقی ہوتے ہیں۔یعنی اگر ایک ایک خُلق فرداً فرد کسی میں ہوں تو اسے متقی نہ کہیں گے۔" یہ سارے تمام اخلاق جو اچھے اخلاق ہیں وہ جب جمع ہو جائیں تو پھر متقی ہوتا ہے۔یہ نہیں کہ ایک نیکی کر لی۔چندہ دے دیا، نیکی ہو گئی۔نماز پڑھ لی، نیکی ہو گئی۔نہیں۔چندے بھی، نمازیں بھی، لوگوں کی خدمت بھی، لوگوں سے ہمدردی بھی، اچھے اخلاق بھی، اچھی بات بھی، یہ ہے متقی کی نشانی۔فرمایا " جب تک بحیثیت مجموعی اخلاق فاضلہ اس میں نہ ہوں " متقی نہیں ہو سکتا۔(ملفوظات جلد 4 صفحہ 400) پس جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ ہماری ذمہ داریاں بڑھ رہی ہیں۔اس مسجد کا حق ادا کرنے کے لئے ایک بڑا انقلاب ہمیں اپنے اندر پیدا کرنا ہو گا۔پھر قیام نماز کی طرف توجہ دلائی ہے اور قیام نماز پانچ وقت نماز باجماعت ہے۔پس اس مسجد کی خوبصورتی بھی نمازیوں کی تعداد پر ہے۔ایسے نمازیوں کی تعداد پر جو خالص ہو کر خدا تعالیٰ کی عبادت کرنا چاہتے ہیں یا کرنے والے ہیں۔پھر زکوۃ کی طرف توجہ دلا کر غریبوں کے حقوق کی طرف بھی توجہ دلا دی۔ایک حقیقی مومن جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ نمازوں کے قیام اور عبادتوں کی طرف توجہ دینے کے ساتھ لازماً اپنے مال کو پاک کرنے کی بھی فکر کرے گا اور مال پاک کرنے کا بہترین ذریعہ اپنے مال کو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا اور اس کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کے لئے خرچ کرنا ہے اور مالی قربانی کا جو صحیح ادراک ہے وہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ احمدی کے علاوہ اور کسی کو نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی جگہ جہاں زکوۃ کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ دلائی ہے، اپنے مال خرچ کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے اور زکوۃ کو مخصوص کر کے بھی توجہ دلائی ہے۔بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جماعت میں زکوۃ کی ادائیگی کی طرف توجہ نہیں دی جاتی اور یہ اسلام کا بنیادی حکم ہے اور اس کو چھوڑ کر چندوں پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔جبکہ یہ خیال غلط ہے۔زکوۃ جس پر فرض ہے اس کو توجہ دلائی جاتی ہے اور بار بار دلائی جاتی ہے۔میں کئی