خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 271 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 271

خطبات مسرور جلد 14 271 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 مئی 2016 ہمارے عمل اسلام کی تعلیم کے مطابق نہیں، اگر ہم اسلام کا پیغام نہیں پہنچار ہے تو لوگ مسجد کو دیکھ کر بیشک اس طرف متوجہ ہوں گے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ ہائی وے پر واقع ہے اور چمکدار گنبد دور سے لوگوں کی توجہ کھینچتا ہے لیکن یہ توجہ صرف ظاہری حسن کی طرف ہو گی۔اصل حسن تو مسجد کا اس وقت نظر آئے گا جب اس میں عبادت کرنے والے اس مسجد میں عبادت کرنے کی وجہ سے روحانی حسن دکھائیں گے۔پس جو وقتی جوش سے قربانیاں کی ہیں یقیناوہ بھی قابل قدر ہیں۔بعض میں وقتی جوش تھا، بعضوں کی کئی سال پہ پھیلی ہوئی قربانیاں ہیں خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کی طرف سے۔لیکن مسلسل قربانیوں کا دور تو اب شروع ہوا ہے کہ اس مسجد کے ظاہری حسن کو روحانی حسن میں بدل دیں۔یہ بہت بڑا کام ہے جو ہم نے کرنا ہے، یہاں کے رہنے والوں نے کرنا ہے کہ مسجد کا جو ظاہری حسن ہے اس کو اندرونی اور روحانی حسن میں بدلنا ہے اور روحانی حسن ایک تسلسل چاہتا ہے، مسلسل کوشش چاہتا ہے۔پس ہر احمدی روحانی حسن کے اس تسلسل کو قائم رکھنے کا عہد کرے۔یہ آیات جو میں نے شروع میں تلاوت کی ہیں اس میں پہلی آیت جو سورۃ توبہ کی ہے اللہ تعالیٰ اس میں فرماتا ہے۔ترجمہ اس کا یہ ہے کہ اللہ کی مساجد تو وہی آباد کرتا ہے جو اللہ پر ایمان لائے اور یوم آخرت پر اور نماز قائم کرے اور زکوۃ دے اور اللہ کے سوا کسی سے خوف نہ کھائے۔پس قریب ہے کہ یہ لوگ ہدایت یافتہ لوگوں میں شمار کئے جائیں۔پس مسجد بنانے کا مقصد اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے اور اللہ تعالیٰ پر ایمان اس وقت کامل ہوتا ہے جب انسان ہر قسم کے شرک سے اپنے آپ کو محفوظ رکھے۔ہر چیز کا دینے والا خدا تعالیٰ کو سمجھے۔پھر آخرت پر ایمان ہے اس کی تفصیلات ہیں۔بہت ساری چیزیں آخرت کے بارے میں آتی ہیں کہ آخرت دنیا سے بہتر ہے۔لیکن اگر انسان صرف اس بات پر ہی غور کرلے تو پھر دنیاوی معمولی باتوں کے حصول پر اپنی سب طاقتیں خرچ کرنے کی بجائے، اپنا زور لگانے کی بجائے آخرت کے انعامات کا وارث اپنے آپ کو بنانے کے لئے کو شش کرے۔اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے۔وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ اتَّقَوا۔( یوسف : 110) اور آخرت کا گھر ان لوگوں کے لئے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا یقینا زیادہ بہتر ہے۔اب ایک گھر تو مسجد کی تعمیر کر کے ایک مومن بناتا ہے لیکن اس گھر کی آبادی، مسجد کی آبادی تقویٰ سے منسلک ہے۔پس مسجد کی تعمیر کا حق بھی تقویٰ پر چلنے سے ادا ہو گا اور تقویٰ کے بارے میں ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: متقی بننے کے واسطے یہ ضروری ہے کہ بعد اس کے کہ موٹی باتوں جیسے زنا، چوری، تلف حقوق، "لوگوں کے حق تلف کرنا، حق مارنا ریا، محجب، حقارت، بخل کے ترک میں پکا ہو تو اخلاق رذیلہ سے پر ہیز کر کے ان کے