خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 273 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 273

خطبات مسرور جلد 14 273 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 مئی 2016 خطبات میں گزشتہ کئی سالوں سے اس پر بڑی تفصیل سے بعض موقعوں پر روشنی ڈال چکا ہوں اور پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم توجہ نہ دلائیں جبکہ زکوۃ کا تو خلافت کے نظام کے ساتھ بھی ایک لحاظ سے بڑا گہرا تعلق ہے کہ آیت استخلاف جس میں خلافت کے نظام کی ہدایت اور پیشگوئی فرمائی گئی ہے ، اس سے اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قیام نماز اور زکوۃ کی ادائیگی کی طرف توجہ دلائی ہے۔اور اگر دوسرے چندوں اور تحریکات کے بارے میں کہا جاتا ہے تو جیسا کہ میں نے کہا کہ زکوۃ ہر ایک پر فرض نہیں ہے۔اس کا ایک نصاب ہے۔اس کی کچھ شر طیں ہیں۔اور نہ ہی اس سے تمام اخراجات پورے ہو سکتے ہیں اور جتنے وسیع کام اب جماعت کے دنیا میں ہو رہے ہیں ان کے لئے دوسرے چندوں پر توجہ دینا ضروری ہے۔اور وصیت اور باقاعدگی کے ساتھ اپنے اوپر فرض کر کے ماہوار جماعتی چندہ دینے کا نظام جو ہے یہ نظام تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا قائم کر دہ ہے۔بہر حال اس وقت میں اس کی تفصیلات میں نہیں جارہا۔میں نے اس کا ضمناً ذکر کر دیا۔جو میں بتانا چاہ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ مساجد کی تعمیر کے ساتھ ہماری ذمہ داریاں بڑھتی ہیں اور ان کو ادا کرنے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق جوڑ کر بھی یہ توجہ ہو گی، آخرت پر نظر رکھتے ہوئے بھی یہ توجہ ہو گی، اپنے تقویٰ کے معیار کو بڑھا کر اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے بھی جب کوشش کریں گے تو پھر ہی حق ادا ہو گا۔نمازوں کے قیام کے ذریعہ بھی اور مخلوق کی خدمت کے ذریعہ بھی اس کا حق ادا ہو گا۔دین کو تمکنت اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہی ملنی تھی اور ملی ہے کیونکہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کی حیثیت سے دنیا میں آئے اور آپ خاتم الخلفاء بھی ہیں۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہی اس لئے کہ اسلام کی تعلیم کے حقیقی نمونے قائم ہوں۔اسلام کی کھوئی ہوئی ساکھ کو دوبارہ قائم کریں اور دنیا کو بتائیں کہ اسلام کی خوبصورتی کیا ہے۔پس آپ کے آنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ دنیا اسلام کی خوبصورتی دیکھ سکے۔اور دوسری آیت جو میں نے تلاوت کی ہے وہ سورۃ حج کی آیت ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جن کو اللہ تعالیٰ جب تمکنت عطا فرماتا ہے تو وہ جن خصوصیات کے حامل بنتے ہیں ان میں نماز کا قیام بھی ہے۔زکوۃ کی ادائیگی بھی ہے۔نیک باتوں کو پھیلانا بھی ہے اور بری باتوں سے روکنا بھی ہے۔اس زمانے میں جس کے ذریعہ دنیا میں تمکنت ملنی تھی جیسا کہ میں نے کہا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ملنی تھی۔خلافت کا نظام آپ کے ذریعہ سے ہی اس زمانے میں جاری ہو نا تھا اور ہوا ہے اور آج تمام دنیا میں صرف جماعت احمد یہ ہی ہے جس میں خلافت کا وہ نظام جاری ہے جو صحیح اسلامی تعلیم کا پرچار کر رہا ہے، اسے پھیلا رہا ہے۔جو اللہ تعالیٰ کے پیغام کو دنیا میں پھیلا رہا ہے۔جو عبادتوں کے قیام کے لئے مسجدیں بنارہا ہے نہ کہ فتنہ و فساد کی جگہیں۔اور یہ چیزیں تمکنت کا باعث ہیں یعنی اسلام کی تعلیم کو پھیلا کر جو عزت اور وقار اور طاقت پیدا کر رہی ہیں یا