خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 270
خطبات مسرور جلد 14 270 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 مئی 2016 ہر کام کے بعد یہ فکر کرنی چاہئے کہ کسی ایک مقصد کو حاصل کرنے کے بعد ہم اپنی زندگی کے بنیادی مقصد سے لا پرواہ نہ ہو جائیں۔یہی نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ایک خوبصورت مسجد تعمیر کر لی تو ہمارے فرائض ادا ہو گئے اور سب کام ختم ہو گئے۔اس مسجد کی تعمیر کے بعد ہمارا اصل کام اب شروع ہوا ہے۔یہاں رہنے والوں کو اور ہر ایک کو یہ یاد رکھنا چاہیے۔وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات:57) یعنی ہم نے جن اور انس کو عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔پس ہمیشہ یاد رکھنا ہے ہم نے اس عبادت کا حق ادا کرنا ہے اور عبادت کا حق سب سے زیادہ مسجدوں کی آبادی بڑھانے سے ہی ادا ہوتا ہے جیسا کہ حدیث میں پہلے میں بیان کر آیا ہوں۔اور پھر اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں سے پیار کا اظہار دیکھیں، ان کو انعامات سے نوازنے کا اظہار دیکھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا کہ نماز با جماعت مسجد میں آکر پڑھنے والے کو ستائیس گنا ثواب ہوتا ہے۔(بخاری کتاب الصلاة باب فضل صلوة الجماعة حديث (645) پھر ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو حضرت ابوہریر نے روایت کی ہے کہ آدمی کی باجماعت نماز اس کی اس نماز سے پچیس گنا ( بعض جگہ پر ستائیس گنا بھی ہے ) بہتر ہے جو وہ اپنے گھر میں یا بازار میں پڑھے۔اور یہ اس لئے کہ جب وہ وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے پھر وہ مسجد کی طرف نکلے اس حال میں کہ اسے صرف نماز ہی نکال رہی ہے تو جو قدم بھی وہ اٹھائے گا اس کے ایک قدم پر اس کا ایک درجہ بلند کیا جائے گا اور دوسرے پر ایک گناہ دور کر دیا جائے گا۔اور جب وہ نماز پڑھے گا تو جب تک وہ اپنی جائے نماز میں رہے گا ملائکہ "فرشتے" اس کے لئے دعائے رحمت کرتے رہیں گے۔کیا دعا کریں گے ؟ وہ کہیں گے کہ اے اللہ اس پر خاص رحمت فرما۔اس پر رحم فرما۔اور فرمایا تم میں سے ایک آدمی نماز ہی میں ہوتا ہے جب تک کہ وہ نماز کا انتظار کرے۔(بخاری کتاب الصلاة باب فضل صلاة الجماعة حديث (647) یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ انتظار کا ثواب نہیں دیتا۔انتظار کا بھی ثواب ہے جب مسجد میں آکر نماز کے لئے انتظار کر رہا ہوتا ہے۔پھر ایک روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسجد کو صبح شام جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں اپنی مہمان نوازی کا سامان تیار کرتا ہے۔(بخاری کتاب الصلاة باب فضل من غدا الى المسجد ومن راح حديث (662) پس مسجدوں میں آنے والے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہو کر رہتے ہیں۔اس مسجد کی تعمیر کی شکر گزاری آپس میں پہلے سے بڑھ کر پیار اور محبت کے اظہار سے بھی ہم نے کرنی ہے۔آپ سب نے کرنی ہے جو یہاں رہنے والے ہیں اور جو دنیا میں کہیں بھی رہنے والے احمدی ہیں۔جب مسجدوں میں جائیں تو مسجدوں کے یہ حق بھی ادا کریں۔اس مسجد کی تعمیر کے بعد آپ نے پہلے سے بڑھ کر اسلام کی تعلیم کے اپنے نمونے لوگوں کو دکھانے ہیں اور اس سے ان کو آگاہ کرنا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مسجد مسلمان بنانے کا ذریعہ بنے گی۔اگر