خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 269 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 269

خطبات مسرور جلد 14 269 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 مئی 2016 کھڑے ہوں تو برابر پاؤں رکھیں۔ایڑھیاں ایک لائن میں ہوں۔ایک سیدھ میں ہوں۔" اور صف سیدھی ہو اور ایک دوسرے ملے ہوئے ہوں۔" فرمایا کہ " اس سے مطلب یہ ہے کہ گویا ایک ہی انسان کا حکم رکھیں۔" ایسے سیدھے ہوں کہ لگے کہ ایک ہی انسان ہیں۔" اور ایک کے انوار دوسرے میں سرایت کر سکیں۔"کسی میں زیادہ روحانیت ہے کسی میں کم ہے تو آپ نے فرمایا کہ جو روحانیت کا نور ہے ایک دوسرے میں سرایت کرے۔وہ تمیز جس سے خودی اور خود غرضی پیدا ہوتی ہے نہ رہے۔" یہ خواہش تھی آپ کی۔خودی اور خود غرضی بالکل ختم ہو جائے اور ایک ہو جاؤ۔فرمایا کہ " یہ خوب یاد رکھو کہ انسان میں یہ قوت ہے کہ وہ دوسرے کے انوار کو جذب کرتا ہے۔پھر اسی وحدت کے لئے حکم ہے کہ روزانہ نمازیں محلہ کی مسجد میں اور ہفتے کے بعد شہر کی مسجد میں اور پھر سال کے بعد عید گاہ میں جمع ہوں اور گل زمین کے مسلمان سال میں ایک مرتبہ بیت اللہ میں اکٹھے ہوں۔ان تمام احکام کی غرض وہی وحدت ہے۔" لیکچر لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 282,281) نماز سے لے کے حج تک جتنے بھی احکام ہیں، عبادت ہے ، ان کا مقصد کیا ہے ؟ تاکہ مسلمان ایک قوم بن جائیں۔اب بد قسمتی سے سب سے زیادہ تفرقہ اور پھوٹ اور فساد اس وقت مسلمانوں میں ہے۔پس ہم احمدی ہیں جنہوں نے یہ نمونے قائم کرنے ہیں اور دنیا کو اسلام کی حقیقی اور خوبصورت تعلیم کے بارے میں بتانا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں: "مسجدوں کی اصل زینت عمارتوں کے ساتھ نہیں ہے بلکہ ان نمازیوں کے ساتھ ہے جو اخلاص کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔ورنہ یہ سب مساجد ویران پڑی ہوئی ہیں۔" آپ نے مسلمانوں کی جو مساجد تھیں ان کی طرف اشارہ کیا ہے۔فرمایا کہ "رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد چھوٹی سی تھی۔کھجور کی چھڑیوں سے اس کی چھت بنائی گئی تھی اور بارش کے وقت چھت میں سے پانی ٹپکتا تھا۔مسجد کی رونق نمازیوں کے ساتھ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں دنیا داروں نے ایک مسجد بنوائی تھی۔وہ خد اتعالیٰ کے حکم سے گرادی گئی۔اس مسجد کا نام مسجد ضرار تھا۔یعنی ضرر رساں۔اس مسجد کی زمین خاک کے ساتھ ملا دی گئی۔مسجدوں کے واسطے حکم ہے کہ تقویٰ کے واسطے بنائی جائیں۔" (ملفوظات جلد 8 صفحہ 170) پس یقینا قربانی کا جذبہ جو مردوں عورتوں اور بچوں میں ہے اس مسجد کی تعمیر کے لئے نظر آتا ہے۔خاص طور پر بچوں کی بے لوث اور معصومانہ قربانیاں جو ہر بناوٹ سے پاک ہیں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں اور تعلیم نے ہمیں عمومی طور پر دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا ادراک دیا ہے اور ہماری مسجد بنانے کی سوچ دنیاداری کی غرض سے نہیں ہے۔خالصہ عبادت کرنے والوں کے لئے مسجد بنائی گئی ہے۔تقویٰ پر چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا کی حصول کے لئے ہے۔پس ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کئے ہوئے