خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 268 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 268

خطبات مسرور جلد 14 268 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 مئی 2016 خدا خود مسلمانوں کو کھینچ لاوے گا۔" یعنی دوسرے مسلمان بھی آجائیں گے اور یہاں کے مقامی لوگوں سے بھی تعداد بڑھے گی۔فرمایا " لیکن شرط یہ ہے کہ قیام مسجد میں نیت یہ اخلاص ہو۔محض اللہ اسے کیا جاوے۔نفسانی اغراض یا کسی شر کو ہر گز دخل نہ ہو تب خدا برکت دے گا۔" اس شرط پر ہمیشہ ہر ایک کو غور کرنا چاہئے۔نیت میں پورا اخلاص ہو اور کسی قسم کا شر اور فتنہ دلوں میں نہ ہو اور خالصۂ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے قربانیاں کی جائیں اور مسجد بنائی جائے اور مسجد کو آباد کیا جائے تو پھر بے انتہا برکت پڑتی ہے۔فرمایا کہ " جماعت کی اپنی مسجد ہونی چاہئے جس میں اپنی جماعت کا امام ہو اور وعظ وغیرہ کرے۔اور جماعت کے لوگوں کو چاہئے کہ سب مل کر اسی مسجد میں نماز باجماعت ادا کیا کریں۔" فرمایا کہ " جماعت اور اتفاق میں بڑی برکت ہے۔" یہ بڑی اہم بات ہے جو ہر جگہ کے رہنے والوں کو یاد رکھنی چاہئے ، چاہے وہ ناروے کے ہیں، ڈنمارک کے ہیں یاد نیا کے دوسرے ملکوں کے ہیں کہ مسجد کی آبادی کا مقصد بھی جماعت کی اکائی ہے۔پس ہمیں اس اکائی کو قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔فرمایا کہ " پراگندگی سے پھوٹ پیدا ہوتی ہے اور یہ وقت ہے کہ اس وقت اتحاد اور اتفاق کو بہت ترقی دینی چاہیئے۔" اتفاق میں، اتحاد میں ، محبت میں، پیار میں بڑھیں " اور ادنی ادنی باتوں کو نظر انداز کر دینا چاہئے۔" چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائیاں، جھگڑے، بدظنیاں یہ ختم کریں۔فرمایا کہ " ادنی ادنی باتوں کو نظر انداز کر دینا چاہئے جو کہ پھوٹ کا باعث ہوتی ہیں۔" ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 119-120) ہم نے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی ہے تو اس لئے کہ اسلام کی تعلیم کو جو مسلمان نہ صرف بھول چکے ہیں بلکہ اس میں مختلف قسم کی بدعات پھیلا کر ، فرقہ بازیوں میں لگ کر ، اسلامی قدریں تو ایک طرف رہیں اخلاقی قدریں بھی بھلا بیٹھے ہیں۔اس سے بچ کر ہمیں ذاتیات کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ہمیں دوسروں سے عبرت حاصل کرنی چاہئے اور ایک اکائی ہمیں بننا چاہئے اور آپس میں اتفاق اور اتحاد پیدا کریں۔اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق پر چلیں۔اس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نمازوں اور مساجد کے حوالے سے جو ہمیں نصیحت فرمائی ہے وہ میں پیش کر تا ہوں۔آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : " نماز میں جو جماعت کا زیادہ ثواب رکھا ہے اس میں یہی غرض ہے کہ وحدت پید اہوتی ہے اور پھر اس وحدت کو عملی رنگ میں لانے کی یہاں تک ہدایت اور تاکید ہے کہ باہم پاؤں بھی مساوی ہوں۔" جب صف بنا کر