خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 267
خطبات مسرور جلد 14 267 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 مئی 2016 اس کمپلیکس کا گل تعمیر شدہ رقبہ 2353 مربع میٹر ہے۔پانچ عمارات پر مشتمل ہے۔بڑی عمارات ہیں۔مسجد محمود main ہے۔اس کا رقبہ 1494 مربع میٹر ہے یعنی تقریباً پندرہ سو مربع میٹر ہے۔سپورٹس ہال ساڑھے سات سو مربع میٹر ہے۔اس کے علاوہ اور عمارتیں ہیں۔مسجد کے دو ہال ہیں۔ایک اوپر ، ایک نیچے۔مردوں کے لئے اور عورتوں کے لئے۔یہاں بعض سوال کرنے والے سوال کر دیتے ہیں کہ آپ عورتوں کو تو علیحدہ کر دیتے ہیں، main مسجد میں رہنے نہیں دیتے۔یہاں ان لوگوں کا یہ اعتراض بھی دُور ہو جاتا ہے جو اسلام پر اعتراض کرنے کے راستے تلاش کرتے رہتے ہیں۔ان کے لئے بھی یہاں کافی جواب ہے کہ ایک ہی مسجد کے بلاک میں دونوں ہال ہیں اور ایک طرح کے ہال ہیں۔ان بالوں میں ہر ایک میں پانچ پانچ سو افراد کے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے۔اسی طرح جو سپورٹس ہال ہے اس میں سات سو نمازی نماز ادا کر سکتے ہیں۔اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے سترہ سو (1700) لوگ اکٹھے نماز ادا کر سکتے ہیں۔آج تو باہر سے بہت سارے لوگ آئے ہوئے ہیں اس لئے مسجد بھری نظر آرہی ہے لیکن عام حالات میں گنجائش کے لحاظ سے یہ بہت وسیع مسجد ہے۔پورے ملک کی جماعت بھی اگر جمع ہو جائے تب بھی نصف جگہ نماز پڑھنے والوں کے لئے خالی رہے گی۔ہالوں میں اوپر بھی خالی رہے گی، نیچے بھی خالی رہے گی۔پس یہ یہاں کے احمدیوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنی تعداد بڑھائیں۔آج تو افتتاح ہے۔میں بھی آیا ہوں۔لوگ بہت سارے باہر سے آئے ہیں اس لئے نظر آ رہا ہے کہ مسجد بھری ہوئی ہے اوپر بھی، نیچے بھی، باہر بھی لوگ بیٹھے ہیں۔لیکن عمومی حالات میں جیسا کہ میں نے بتایا کہ یہ مسجد اتنی بڑی ہے کہ سارے ملک کی جماعت جمع ہو جائے تب بھی آدھی مسجد خالی رہے گی۔یہاں کے لوگوں کو اپنی تعداد بڑھانی چاہئے۔یہاں کے لوگوں میں اسلام کے بارے میں جو غلط فہمیاں ہیں انہیں دور کریں اور انہیں دُور کر کے توحید کی طرف لائیں۔ان لوگوں سے ہمدردی کا یہ تقاضا ہے اور ان کا یہ حق ہے کہ جو احسان یہاں کی حکومتوں نے اور عوام نے اس ملک کے رہنے والوں نے ہمیں جگہ دے کر کیا ہے یا آپ کو جگہ دے کر آپ پر کیا ہے اس کا بہترین بدلہ یہ ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کے قریب لائیں۔مسجد کی تعمیر کا حق بھی تبھی ادا ہو گا جب اس کو عبادت کرنے والوں سے زیادہ سے زیادہ آباد کریں گے۔خود بھی یہاں آکر اپنی نمازوں سے اس کو آباد کریں گے اور تبلیغ کر کے علاقے کے لوگوں کو بھی اسلام کی تعلیم سے متعارف کروائیں گے اور یہی بات ہے جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں ایک جگہ توجہ دلائی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : " اس وقت ہماری جماعت کو مساجد کی بڑی ضرورت ہے۔یہ خانہ خدا ہو تا ہے۔جس گاؤں یا شہر میں ہماری جماعت کی مسجد قائم ہو گئی تو سمجھو کہ جماعت کی ترقی کی بنیاد پڑگئی۔اگر کوئی ایسا گاؤں ہو یا شہر جہاں مسلمان کم ہوں یا نہ ہوں اور وہاں اسلام کی ترقی کرنی ہو تو ایک مسجد بنادینی چاہئے پھر