خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 266 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 266

خطبات مسرور جلد 14 266 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 مئی 2016 گیا تو اس خادم کے والد نے کہا کہ اس خاتون سے علیحدگی ہو گئی ہے اس لئے وہ اپنا حصہ خود ادا کرے گی۔لیکن اِس نوجوان نے کہا نہیں، کیونکہ میں نے اس کی طرف سے وعدہ کیا تھا اس لئے علیحدگی کے باوجو د میں ہی یہ وعدہ پورا کروں گا اور مکمل ادائیگی کر دی۔کہیں تو ایسے لوگ ہمیں نظر آتے ہیں جو عورت کے جائز حق بھی نہیں دیتے اور قضا کے فیصلے نہ ماننے کی وجہ سے بعض دفعہ ان کو تعزیر ہو جاتی ہے حالانکہ وہ ان کا فرض ہو تا ہے اور عورت کا حق ہوتا ہے۔اور کہیں ایسے ہیں جیسا کہ میں نے بتایا کہ علیحدگی کے باوجو د وعدے پورے کر رہے ہیں اور حقیقت میں یہی لوگ ہیں جو مومن کہلانے کے مستحق ہیں۔مالمو جماعت کے ایک خادم جو وقتی نوکری کرتے تھے ، عارضی نوکری تھی، پارٹ ٹائم نوکری تھی۔جب انہیں مسجد کا وعدہ بڑھانے کی تحریک کی گئی تو انہوں نے اپنا وعدہ دس ہزار کرونر سے بڑھا کر ایک لاکھ کرونر کر دیا اور اگلے ہفتے ہی پچاس ہزار کرونر ادائیگی کے لئے رقم لے کر مسجد میں آگئے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے اتنی رقم کہاں سے جمع کر لی ؟ حالات تو ابھی فوراً ایسے نہیں ہیں اور وعدہ بھی کچھ عرصے کے لئے تھا۔دو سال میں تقسیم تھا۔تو انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی گاڑی بیچ دی ہے۔کار بیچ کر اور جو بھی گھر میں اس کے علاوہ پیسے جمع تھے وہ ادائیگی کے لئے لے آیا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے اس قربانی کے نتیجہ میں انہیں مستقل نوکری بھی عطا فرما دی اور پہلے سے بڑھ کر اچھی اور نئی گاڑی خریدنے کی بھی انہیں تو فیق عطا فرمائی۔یہ وہ قربانی کی روح ہے جو ہمیں بہت سے احمدیوں میں ہر جگہ نظر آتی ہے۔یہاں مخصوص نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے مختلف ملکوں میں، مختلف جگہوں میں پھیلے ہوئے بہت سے ایسے احمدی ہیں اور یہاں اور کبھی ہوں گے۔یہ چند مثالیں میں نے دی ہیں۔اس مسجد کی جگہ اور تعمیر اور گنجائش کے بارے میں بھی مختصر بتادوں کہ مسجد کی تعمیر کا منصوبہ 1999ء میں شروع ہوا تھا جب کو نسل کو درخواست پیش کی گئی تھی۔اس کے لئے مکرم احسان اللہ صاحب نے پانچ ہزار مربع میٹر کا قطعہ زمین خرید کر جماعت کو پیش کیا تھا۔یہ قطعہ ایک ٹیلے پر ہے اور ایک نمایاں جگہ پر واقع ہے۔مین ہائی وے (Main Highway) یہاں قریب سے گزرتی ہے اور ناروے اور سویڈن کو پورے یورپ سے بھی ملاتی ہے اور اسی طرح سویڈن اور ناروے کے تمام بڑے شہروں کو بھی ملاتی ہے۔بڑی مصروف ہائی وے ہے جہاں ڈور سے ہی مسجد کی خوبصورت اور بلند عمارت ہر آنے جانے والے کو نظر آتی ہے اور توحید کا پیغام دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ہر احمدی اپنا حق تعمیر کے بعد بھی ادا کرے اور تبلیغ کے ذریعہ بھی یہ مسجد توحید پھیلانے کا ذریعہ ہمیشہ بنی رہے اور اس کی حقیقی خوبصورتی جو دینی تعلیم کی خوبصورتی ہے اور جس مقصد کے لئے بنائی گئی ہے وہ روشن ہو کر چمکے۔