خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 265
خطبات مسرور جلد 14 265 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 مئی 2016 آئی اور پانچ سو کرونر مسجد کی تعمیر کے لئے ادا کئے اور بتایا کہ اس کے پاس دو طوطے تھے جنہیں فروخت کر کے اس نے یہ رقم مسجد کے لئے ادا کرنے کے لئے حاصل کی۔یہاں ان ملکوں میں pet یا پالتو جانور رکھنے کا بڑا شوق ہے لیکن احمدی بچی نے یہاں کے بچوں کی طرح اپنے پالتو جانور کو ترجیح نہیں دی بلکہ خدا تعالیٰ کے گھر کی تعمیر کو اپنے شوق پر ترجیح دی۔حقیقتا اصل شوق اور ترجیح اللہ تعالیٰ کی رضا ہی ہے جو احمدی بچے ہی سمجھ سکتے ہیں جن کو بچپن سے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات سے یہ ادراک پیدا ہو جاتا ہے کہ مسجد کی تعمیر میں حصہ لینے والا جنت میں اپنا گھر بناتا ہے۔اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ شہروں کی بہترین جگہیں مساجد ہیں۔پھر یہ بھی فرمایا کہ قبیلوں میں مساجد بناؤ۔محلوں میں ، شہروں میں مساجد بناؤ۔اسی بات کا نتیجہ ہے کہ ہم ہر جگہ مساجد بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔مجھ سے کئی جر نلسٹ سوال کرتے ہیں جہاں کہیں مسجد بنا کر جاؤ، کہ یہاں کیوں بنائی گئی ؟ کیا خصوصیت ہے ؟ کس لئے بنائی گئی ؟ یہاں بھی لوگوں نے سوال کیا۔نہ مالمو(Malmö) کی خصوصیت ہے نہ کسی اور جگہ کی۔ہمارا کام مساجد بنانا ہے تاکہ جہاں کچھ احمدی ہیں جمع ہوں اور اپنا عبادت کا حق ادا کر سکیں۔ایک بچی اعتکاف بیٹھی تھی اس نے یہاں انتظامیہ سے رابطہ کیا اور اپناز یور مسجد کے لئے پیش کیا۔بظاہر بہت قیمتی زیور نہ تھا مگر وہی زیور اُس کی گل جمع پونجھی تھی اور اس کے ماں باپ نے اسے تحفہ دیا تھا۔اور اس بچی نے جماعت کے جس شخص کو زیور دیا اس کو تاکیڈا کہا کہ میرے والدین کو نہیں بتانا کہ یہ زیور میں نے چندے میں دے دیا ہے۔ایک اور واقفہ نو بچی بھی ایسی ہے جس نے تمام زیور اور جیب خرچ کی صورت میں جو رقم اس کو ملی ہوئی تھی اس نے ایک لفافے میں ڈال کر اور خط لکھ کر اپنے والد کے تکیہ کے نیچے رکھ دیا کہ یہی سب کچھ میرے پاس ہے اس کے علاوہ کوئی ایسی چیز نہیں جو میں اس مسجد کے لئے خدا کے حضور پیش کر سکوں۔ایسی نوجوان بچیاں بھی ہیں جن کی نئی نئی شادی ہوئی تھی اور انہوں نے اپنے زیور کے شوق پورے نہیں کئے تھے، اپنا سارا زیور مسجد کی تعمیر کے لئے پیش کر دیا۔بہت سی خواتین نے جن کے خاوندوں نے پہلے ہی اچھے وعدے کئے ہوئے تھے اور ادائیگی مکمل کر دی تھی ، ان خواتین نے اپنے زیور اور جو جمع پونجی تھی وہ مسجد کی تعمیر کے لئے ادا کر دی۔یہ بتایا گیا ہے کہ دو خواتین یہاں ایسی تھیں جنہیں مالی قربانی کی استطاعت نہیں تھی یا ان کے پاس کچھ نہیں تھا مگر پاکستان میں والد کی طرف سے انہیں موروثی مکان ملا تھا۔انہوں نے وہ مکان فروخت کر کے اس کی گل رقم جو وہاں لاکھوں میں تھی مسجد کی تعمیر میں ادا کر دی۔ایک خادم نے مسجد میں ادائیگی کے لئے ایک بڑی رقم کا وعدہ کیا تھا جس میں ایک حصہ ان کی اہلیہ کی طرف سے تھا۔لیکن بد قسمتی سے اس جوڑے کی علیحدگی ہو گئی۔اور وعدہ جات کے سلسلہ میں جب ان سے رابطہ کیا