خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 4
خطبات مسرور جلد 14 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2016 سواری اور راستہ کی ضروریات۔اسی طرح پر انسان دنیا کو حاصل کرے مگر دین کا خادم سمجھ کر۔" فرمایا کہ: " رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً (البقرة:202) اللہ تعالیٰ نے جو یہ دعا تعلیم فرمائی ہے کہ ربَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً اس میں بھی دنیا کو مقدم کیا ہے۔لیکن کس دنیا کو ؟ حَسَنَةُ الدُّنْيَاکو، جو آخرت میں حسنات کا موجب ہو جاوے۔" ایسی دنیا کو پہلے رکھا ہے، مقدم کیا ہے کہ اس کی حسنات حاصل کر وجو د نیا آخرت کی حسنات کا موجب بنے " اس دعا کی تعلیم سے صاف سمجھ میں آجاتا ہے کہ مومن کو دنیا کے حصول میں حسنات الآخرۃ کا خیال رکھنا چاہئے اور ساتھ ہی حَسَنَةُ الدُّنْیا کے لفظ میں ان تمام بہترین ذرائع حصول دنیا کا ذکر آگیا ہے جو ایک مومن مسلمان کو حصول دنیا کے لئے اختیار کرنی چاہئے۔دنیا کو ہر ایسے طریق سے حاصل کرو جس کے اختیار کرنے سے بھلائی اور خوبی ہی ہو۔نہ وہ طریق جو کسی دوسرے بنی نوع انسان کی تکلیف رسائی کا موجب ہو۔نہ ہم جنسوں میں کسی عار اور شرم کا باعث۔ایسی دنیا بے شک حسنہ لآخر ۃ کا موجب ہو گی۔" (ملفوظات جلد 2 صفحہ 91-92) پس فرمایا کہ ایسی دنیا تلاش کرو جس سے کسی کو نقصان نہ پہنچاؤ۔جس سے ہم جنسوں میں کسی شرم اور عار کا باعث نہ بن جاؤ تو پھر تمہاری ایسی دنیا جو ہے وہ آخرت کے لئے حسنات کا موجب ہے اور ایسی دنیا کو اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا ہے۔پھر فرمایا کہ " سمجھنا چاہئے کہ جہنم کیا چیز ہے؟ ایک جہنم تو وہ ہے جس کا مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے وعدہ دیا ہے۔دوسرے یہ زندگی بھی اگر خدا تعالیٰ کے لئے نہ ہو تو جہنم ہی ہے۔"اگر اس میں حسنات نہیں ہیں تو پھر یہ دنیا بھی جہنم بن جاتی ہے۔فرمایا کہ " اللہ تعالیٰ ایسے انسان کا تکلیف سے بچانے اور آرام دینے کے لئے متولی نہیں ہو تا۔" فرمایا کہ " یہ خیال مت کرو کہ کوئی ظاہری دولت یا حکومت، مال و عزت، اولاد کی کثرت کسی شخص کے لئے کوئی راحت یا اطمینان، سکینت کا موجب ہو جاتی ہے اور وہ دم نقد بہشت ہی ہوتا ہے۔" یعنی یہ دنیا میں بہشتی بن جاتا ہے۔ہر گز نہیں۔وہ اطمینان اور وہ تسلی اور وہ تسکین جو بہشت کی انعامات میں سے ہیں ان باتوں سے نہیں ملتی۔وہ خدا ہی میں زندہ رہنے اور مرنے سے مل سکتی ہے جس کے لئے انبیاء علیہم السلام خصوصاً ابراہیم اور یعقوب علیھما السلام کی یہی وصیت تھی کہ لَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُّسْلِمُونَ۔لذات دنیا تو ایک قسم کی ناپاک حرص پیدا کر کے طلب اور پیاس کو بڑھا دیتی ہیں۔"صرف دنیا کی لذتیں تو ایک حرص پیدا کرتی ہیں جس سے پیاسے کی پیاس بیماری کی طرح بھڑکتی ہے اور اُسے بڑھا دیتی ہیں فرمایا کہ " استقاء کے مریض کی طرح پیاس نہیں بجھتی یہاں تک کہ وہ ہلاک ہو جاتے ہیں۔پس یہ بے جا آرزوؤں اور حسرتوں کی آگ بھی منجملہ اسی جہنم کی آگ کے ہے جو انسان کے دل کو راحت اور قرار نہیں لینے دیتی بلکہ اس کو ایک تذبذب اور اضطراب میں غلطاں و پیچاں رکھتی ہے "۔فرمایا اس لئے میرے دوستوں کی نظر سے " یعنی احمدیوں کی نظر سے " یہ امر ہر گز پوشیدہ نہ رہے کہ انسان مال و دولت یازن و فرزند کی محبت کے جوش اور نشے میں ایسا دیوانہ اور از خودرفتہ نہ ہو جاوے کہ اس میں اور خدا تعالیٰ میں ایک حجاب