خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 264
خطبات مسرور جلد 14 264 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 مئی 2016 رہنے والے احمدیوں کی معاشی حالات کی وجہ سے قربانیوں کے باوجود جو کمی رہ جاتی ہے اسے بھی بہتر حالت میں رہنے والے احمدی پورا کر کے ان ملکوں کی جماعتی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کرتے ہیں۔تو بہر حال جماعت احمدیہ میں بہت سے ایسے افراد ہیں جن کا اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ مزاج ہے کہ مالی قربانیاں کرنے کے لئے بے چین رہتے ہیں اور جماعت کی خاطر ، خدا تعالیٰ کی خاطر خرچ کرنے کی یہ وہ اسلامی روح ہے جو اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق نے ہم میں پھونکی ہے۔جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے افراد جماعت کی مالی قربانیوں پر حیرت کا اظہار فرمایا تھا آج بھی جیسا کہ میں نے کہا یہ قربانیاں حیران کر دیتی ہیں۔اور یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل سے اللہ تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے گئے وعدے کا اظہار ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی ضروریات پوری فرماتا رہے گا۔اس مسجد کی تعمیر اور اوپر دو کمروں کی رہائشگاہ، دفاتر، لائبریری وغیرہ پر جو مجھے اندازہ خرچ دیا گیا ہے وہ تقریباً ساڑھے سینتیں ملین کرونر کا ہے۔یا 3۔2 ملین پاؤنڈ، سوا تین ملین پاؤنڈ خرچ ہوئے ہیں۔ہال اور مربی ہاؤس اور کچن وغیرہ بھی بنا ہے۔ہال کی finishing اب ہو رہی ہے۔انتظامیہ کا خیال ہے کہ اب کچھ خرچ مزید ہو گا اور آٹھ دس ملین کرونر مزید خرچ ہوں گے۔جیسا کہ جماعت احمدیہ کے اکثر منصوبوں میں یہ ہوتا ہے کہ کافی کام ہم و قار عمل کے ذریعہ سے بھی کر لیتے ہیں اور اس لحاظ سے اخراجات میں کچھ بچت بھی ہو جاتی ہے۔رضا کار والنٹیئر ز کام کر رہے ہیں۔بعض نے مجھے بتایا کہ دن رات یہاں رہے یا تھوڑی دیر کے لئے گھر جاتے تھے اور پھر آجاتے تھے تاکہ جلدی کام ختم ہو اور افتتاح ہو سکے۔لیکن پھر بھی بعض جگہیں جیسا کہ میں نے کہا مکمل نہیں ہو سکیں۔یہ ٹھیکیدار یا مز دور جب ایک دفعہ داخل ہو جائیں تو پھر اپنی مرضی سے نکلتے ہیں۔یہاں کی انتظامیہ کو یہ مارجن (margin)رکھ کر پھر مجھے دعوت دینی چاہئے تھی۔بہر حال اللہ تعالی مالی قربانی کرنے والوں اور ان لوگوں کو بہترین جزا دے جنہوں نے اس مسجد اور اس کمپلیکس کی تعمیر میں کسی طرح بھی حصہ لیا ہے۔بڑی خوبصورت مسجد تعمیر ہوئی ہے۔علاقے کے لوگ بھی اس کی خوبصورتی کی تعریف کر رہے ہیں۔دو دن پہلے اخبار اور ریڈیو کے نمائندے یہاں آئے ہوئے تھے۔مجھے بھی انہوں نے یہی کہا کہ بڑی خوبصورت مسجد تعمیر ہوئی ہے اور یہ اس علاقے کی خوبصورتی میں ایک بڑا اضافہ ہے۔قربانی کی روح کا اظہار کس طرح بچوں، بڑوں نے کیا، اس کی چند ایک مثالیں پیش کرتا ہوں۔ایک گیارہ سال کی بچی نے مسجد کے چندہ کے لئے چند سو کرونر پیش کئے اور بتایا کہ کافی عرصے سے اس نے جو جیب خرچ جمع کیا تھا وہ مسجد کی تعمیر کے لئے ادا کرنے کے لئے آئی ہے۔دس گیارہ سال کی ایک اور بچی امیر صاحب کے پاس یا جو بھی چندے لینے والی انتظامیہ ہے ان کے پاس