خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 261 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 261

خطبات مسرور جلد 14 261 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 مئی 2016 مل کر اس کو مضبوط درخت بنادیں گی۔اور فرمایا کہ " پھر پھل لانے کے وقت " ایک درخت جب بڑا ہو گیا تب اسے پھل لانے کا وقت آگیا اور پھل لانے کے وقت ایک اور طاقت کا فیضان اس پر ہوتا ہے کیونکہ اس طاقت سے پہلے نه درخت کو پھل لگ سکتا ہے نہ پھول۔" (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 209 حاشیہ ) پھر جب ایسا مضبوط ہو جائے تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضل بھی نازل ہوتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ اس درخت کو پھل لگاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے فیض سے فیض پاتا ہے۔پس ہمیں عاجزی بھی پید اکرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسی سے ہم نفس کی قربانی کا حق ادا کر سکتے ہیں۔اپنے ایمان میں ترقی کر سکتے ہیں۔لغویات جنہوں نے آجکل ہمیں گھیرا ہوا ہے اور ہر گھر میں ٹی وی اور انٹرنیٹ کی صورت میں موجود ہیں ان سے بچ سکتے ہیں اور اپنے ایمان میں ترقی کے لئے ان سے بچنا ضروری ہے اور تبھی ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے پھل پھول لانے والی شاخیں بن سکتے ہیں۔اور اپنی بھی اور اپنی نسلوں کی بھی دنیا و آخرت سنوارنے والے بن سکتے ہیں۔ایک موقع پر آپ نے سلسلہ کے روشن مستقبل کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ: " یہ زمانہ بھی روحانی لڑائی کا ہے۔شیطان کے ساتھ جنگ شروع ہے۔شیطان اپنے تمام ہتھیاروں اور مکروں کو لے کر اسلام کے قلعے پر حملہ آور ہو رہا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اسلام کو شکست دے مگر خدا تعالیٰ نے اس وقت شیطان کی آخری جنگ میں اس کو ہمیشہ کے لئے شکست دینے کے لئے اس سلسلے کو قائم کیا ہے۔" پس اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہماری حالت ایسی ہے کہ ہم شیطان سے جنگ کے لئے ہر وقت تیار ہوں۔فرمایا: " مبارک وہ جو اس کو شناخت کرتا ہے۔اب تھوڑا زمانہ ہے ابھی ثواب ملے گا " ثواب لینے کا تو تھوڑا زمانہ ہے "لیکن عنقریب وقت آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کی سچائی کو آفتاب سے بھی زیادہ روشن کر دکھائے گا۔وہ وقت ہو گا کہ ایمان ثواب کا موجب نہ ہو گا۔" جب سورج کی طرح روشن ہو جائے گا تو اس وقت تو لوگ ایمان لائیں گے ہی لیکن وہ ثواب کا موجب نہیں ہو گا۔" اور توبہ کا دروازہ بند ہونے کے مصداق ہو گا۔"گو قبولیت تو ہو گی لیکن وہ معیار نہیں ہوں گے جو آج ہیں جبکہ دنیا ہمیں کچھ نہیں سمجھتی۔فرمایا اس وقت میرے قبول کرنے والے کو بظاہر ایک عظیم الشان جنگ اپنے نفس سے کرنی پڑتی ہے۔وہ دیکھے گا کہ بعض اوقات اس کو برادری سے الگ ہونا پڑے گا۔اس کے دنیاوی کاروبار میں روک ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔اس کو گالیاں سننی پڑیں گی۔" اور آجکل بہت سارے ممالک میں یا خاص طور پر مسلمان ممالک میں یہ ہو رہا ہے۔"لعنتیں سنے گا۔مگر ان ساری باتوں کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں سے ملے گا۔لیکن جب دوسر اوقت آیا اور اس زور کے ساتھ دنیا کار جوع ہوا جیسے ایک بلند ٹیلہ سے پانی گرتا ہے اور کوئی انکار کرنے والا ہی نظر نہ آیا اس وقت اقرار کس پایہ کا ہو گا؟ اس وقت ماننا