خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 260 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 260

خطبات مسرور جلد 14 260 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 مئی 2016 حصہ لینے کے لئے ہم اپنی اصلاح اور تبدیلی کریں۔اس لئے تم اپنے ایمانوں اور اعمال کا محاسبہ کرو۔" فرمایا تم اپنے ایمانوں اور اعمال کا محاسبہ کرو کہ کیا ایسی تبدیلی اور صفائی کر لی ہے کہ تمہارا دل خدا تعالیٰ کا عرش ہو جائے اور تم اس کی حفاظت کے سایہ میں آجاؤ۔" ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 69-70 حاشیہ نمبر 2) پس یہ جائزے لینے کی ضرورت ہے۔نئے احمدی ہیں یا پرانے ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان کر جب تک ہم اپنی عملی اصلاح نہیں کریں گے ان برکات سے فیض نہیں پاسکتے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں آنے سے ملنی ہیں اور نہ ہی ہم خدا تعالیٰ کی حفاظت کے سائے میں آسکتے ہیں۔فرمایا کہ " ایمان کے لئے خشوع کی حالت مثل بیج کے ہے۔اور پھر لغو باتوں کے چھوڑنے سے ایمان اپنا نرم نرم سبزہ نکالتا ہے۔" عاجزی پیدا کرنا، خشوع پیدا کرنا یہ ایمان کی بیج کی حالت ہے اور پھر جب یہ ایمان پیدا ہو جائے اور انسان لغو باتیں چھوڑ دے۔خشوع پیدا ہو جائے اور لغو باتوں کو بھی چھوڑ دو تو پھر جس طرح پودا اگتا ہے ایمان سے بھی نرم نرم سا سبزی باہر نکلنی شروع ہوتی ہے اور پھر فرمایا کہ " مال بطور زکوۃ دینے سے ایمانی درخت کی ٹہنیاں نکل آتی ہیں۔" پھر جو مالی قربانیاں کرتے ہیں، زکوۃ دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، وہ اس پودے کو مزید بڑھاتی ہیں اور اس کی ٹہنیاں نکلنی شروع ہو جاتی ہیں " جو اس کو کسی قدر مضبوط کرتی ہیں۔" درخت کچھ تھوڑا سا مضبوط ہو جاتا ہے۔فرمایا کہ " پھر شہوات نفسانیہ کا مقابلہ کرنے سے ان ٹہنیوں میں خوب مضبوطی اور سختی پیدا ہو جاتی ہے۔" اور جب انسان کے دل میں شہوات پیدا ہوتی ہیں، گندی خواہشات پیدا ہوتی ہیں، نفس کی خواہشات پیدا ہوتی ہیں، برائیوں کی طرف توجہ پید اہوتی ہے اور انسان ان کا مقابلہ کرتا ہے اور ان کو دبا دیتا ہے نہ کہ ان کو کرنے لگ جائے۔جب ایسی حالت ہو، جب ان کو دباتے ہو تو پھر یہ جو درخت کی ٹہنیاں نکلی ہوتی ہیں ان میں سختی اور مضبوطی پیدا ہو جاتی ہے جب انسان اپنے نفس کو مارتا ہے۔اور فرمایا کہ " اور پھر اپنے عہد اور امانتوں کی تمام شاخوں کی محافظت کرنے سے درخت ایمان کا اپنے مضبوط تنے پر کھڑا ہو جاتا ہے۔" پھر جو آپ نے عہد کئے ہیں، جو آپ کے سپر د امانتیں ہیں ان کی اگر صحیح طرح حفاظت کرو۔ہر ایک نے عہد کیا ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔خدام الاحمدیہ میں بھی عہد دہرایا جاتا ہے، انصار اللہ میں بھی عہد دہرایا جاتا ہے، لجنہ میں بھی عہد دہرایا جاتا ہے، جماعت بھی بیعت کے وقت یہ عہد لیتی ہے تو اگر عہد کی حفاظت کرو گے اور اپنی امانتیں جو تمہارے سپر د ہیں۔امانتیں کیا ہیں ؟ جو عہدیدار ہیں ان کے سپرد عہدوں کی امانتیں ہیں۔عام احمدی ہے اس کے سپر د امانت ہے کہ وہ احمدیت کا صحیح نمونہ بن کے دکھائے اور کسی کے لئے ٹھو کر کا باعث نہ ہو۔اگر ایسا ہو گا تو پھر یہ ایمان کا درخت جو ہے مضبوط تنے پر کھڑ ا ہو جائے گا۔یہ ساری چیزیں