خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 262
خطبات مسرور جلد 14 262 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 مئی 2016 شجاعت کا کام ہے نہیں۔ثواب ہمیشہ دکھ ہی کے زمانے میں ہوتا ہے۔" فرمایا کہ "حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کر کے اگر مکہ کی نمبر داری چھوڑ دی "مکہ کے سردار بن سکتے تھے " تو اللہ تعالیٰ نے اُس کو ایک دنیا کی بادشاہی تھی۔پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی کمبل پہن لیا " یعنی اسلام قبول کیا تو عاجزی، غربت اور تقریبا مسکینی کی حالت ہو گئی اور اتنی دولت تو نہیں رہی اور فرمایا کہ " ہر چه بادا باد ما کشتی در آب انداختیم " کہ اب جو بھی ہوتا ہے ہو جائے ہم نے کشتی دریا میں ڈال دی ہے " کا مصداق ہو کر آپ کو قبول کیا تو کیا خدا تعالیٰ نے ان کے اجر کا کوئی حصہ باقی رکھ لیا ؟ ہر گز نہیں۔جو خدا تعالیٰ کے لئے ذرا بھی حرکت کرتا ہے وہ نہیں مر تاجب تک اس کا اجر نہ پالے۔حرکت شرط ہے۔"خود عمل کرناضروری ہے، خود آگے بڑھنا ضروری ہے پھر اللہ تعالیٰ نوازتا ہے۔" ایک حدیث میں آیا ہے کہ اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی طرف معمولی رفتار سے آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دوڑ کر آتا ہے۔" فرمایا کہ " ایمان یہ ہے کہ کچھ مخفی ہو تو مان لے۔جو ہلال کو دیکھ لیتا ہے وہ تیز نظر کہلاتا ہے۔" جو پہلے دن کے چاند کو دیکھتا ہے یا پہلے دو تین دن کے چاند کو دیکھ لے اسی کی تیز نظر ہوتی ہے۔"لیکن چودھویں کے چاند کو دیکھ کر شور مچانے والا کہہ دے کہ میں نے چاند دیکھ لیا تو وہ " دیوانہ کہلائے گا۔" (ملفوظات جلد 5 صفحہ 25-26) اللہ کرے کہ ہم اپنے ایمانوں کو مضبوط تر کرنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتے ہوئے اس کی رضا کو حاصل کرنے والے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کا حق ادا کرنے والے ہوں۔اپنے عمل سے دنیا کو سچائی کا راستہ دکھانے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ نے جو ہم پر احسانات کئے ہیں ان کا حقیقی رنگ میں شکر ادا کرنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 27 مئی 2016ء تا 02 جون 2016ء جلد 23 شماره 22 صفحہ 05 تا 09)