خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 258 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 258

خطبات مسرور جلد 14 258 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 مئی 2016 ہوں کوئی آدمی ایسا نہیں ہو سکتا جو اس فعل کو پسند کرے لیکن جب وہ ناخلف بیٹا ایسا کرتا ہے تو پھر زبانِ خلق بند نہیں ہو سکتی۔" اگر کوئی بیٹا ایسا کرے تو پھر لوگ اس پہ انگلیاں اٹھائیں گے۔اس کے متعلق باتیں کریں گے۔اس کے باپ کے متعلق بھی باتیں کریں گے۔لوگ اس کے باپ کی طرف نسبت کر کے کہیں گے کہ یہ فلاں شخص کا بیٹا فلاں بد کام کرتا ہے۔پس وہ ناخلف بیٹا خود ہی باپ کی بدنامی کا موجب ہوتا ہے۔اسی طرح پر جب کوئی شخص ایک سلسلہ میں شامل ہوتا ہے اور اس سلسلہ کی عظمت اور عزت کا خیال نہیں رکھتا اور اس کے خلاف کرتا ہے تو وہ عند اللہ ماخوذ ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں پھر آجاتا ہے۔"کیونکہ وہ صرف اپنے آپ ہی کو ہلاکت میں نہیں ڈالتا بلکہ دوسروں کے لئے ایک برانمونہ ہو کر ان کو سعادت اور ہدایت کی راہ سے محروم رکھتا ہے۔" جو پہلے شروع میں کہا گیا تھا اس کی یہاں وضاحت کر دی۔فرمایا " پس جہاں تک آپ لوگوں کی طاقت ہے خدا تعالیٰ سے مددمانگو اور اپنی پوری طاقت اور ہمت سے اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرو۔جہاں عاجز آ جاؤ وہاں صدق اور یقین سے ہاتھ اٹھاؤ کیونکہ خشوع اور خضوع سے اٹھائے ہوئے ہاتھ جو صدق اور یقین کی تحریک سے اٹھتے ہیں خالی واپس نہیں ہوتے۔" کوشش کرو۔اپنی کوششیں کامیاب نہ ہوں تو یہ نہ سمجھو کہ بس اب کچھ نہیں ہو سکتا۔دعائیں کرو اور دعائیں کرو اور اتنی دعائیں کرو کہ جن کی انتہانہ ہو لیکن صدق سے اٹھے ہوئے ہاتھ ہوں۔ا اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرو تو سچائی سے اپنے دل کو ٹٹولتے ہوئے دیکھو کہ جو میں کہہ رہا ہوں وہ سچ ہے۔یہی میں چاہتا ہوں۔یہی میں اللہ تعالیٰ سے مانگ رہا ہوں۔کیونکہ اگر اس طرح ہو گا، سچائی کی تحریک دل میں پیدا ہو گی اور اس کے نتیجہ میں ہاتھ اٹھیں گے ، اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے ہاں ضرور انسان جھکے گا تو پھر ایسے ہاتھ پھر خالی واپس نہیں آتے۔اللہ تعالیٰ ضرور نوازتا ہے۔فرمایا "ہم تجربے سے کہتے ہیں کہ ہماری ہزار ہا دعائیں قبول ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں۔" پھر فرمایا کہ " یہ ایک یقینی بات ہے اگر کوئی شخص اپنے اندر اپنے ابنائے جنس کے لئے ہمدردی کا جوش نہیں پاتا وہ بخیل ہے۔" اپنے ساتھیوں کے لئے، دوسرے انسانوں کے لئے اگر ہمدردی کا جوش نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے تم کنجوس ہو، بخیل ہو۔فرمایا کہ اگر میں ایک راہ دیکھوں جس میں بھلائی اور خیر ہے تو میر افرض ہے کہ میں پکار پکار کر لوگوں کو بتلاؤں۔" یہ بھی ہمارا فرض ہے کہ بھلائی کی اور خیر کی راہ ہم نے دیکھی تبھی ہم نے احمدیت کو قبول کیا اس لئے اب ہمارا فرض ہے ہم پکار پکار کے لوگوں کو کہیں کہ آؤ اور یہیں اپنی دنیا و عاقبت سنوارنے کے رستے دیکھو۔فرمایا کہ " اس امر کی پرواہ نہیں ہونی چاہئے کہ کوئی اس پر عمل کرتا ہے یا نہیں۔" ہمارا کام بلانا ہے۔ہمارا کام اصلاح کرنا ہے اس لئے یہ نہ دیکھو کہ کوئی عمل کر رہا ہے کہ نہیں، قبول کرتا ہے کہ نہیں۔ایک فارسی کا مصرعہ