خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 257
خطبات مسرور جلد 14 257 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 مئی 2016 بہت اعلیٰ درجہ کا اثر اس پر پڑتا ہے۔فرمایا کہ " ہماری جماعت پر اعتراض کرتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ کیا ترقی ہو گئی ہے اور تہمت لگاتے ہیں کہ افتراء، غیظ و غضب میں مبتلا ہیں۔" دشمنوں کے بارے میں، غیروں کے بارے میں بتارہے ہیں کہ جماعت پر اعتراض کرتے ہیں اور یہ تہمت لگا رہے ہیں، الزام لگارہے ہیں کہ احمدی ہونے سے ان کی کیا ترقی ہو گئی ؟ جھوٹ، افتراء، بدظنی، غصہ اس میں یہ لوگ ابھی بھی مبتلا ہیں۔فرمایا کہ " کیا یہ ان کے لئے باعث ندامت نہیں ہے کہ انسان عمدہ سمجھ کر اس سلسلے میں آیا تھا۔" اب ان لوگوں کو فرمایا جو احمدی ہو گئے کہ ان لوگوں کے لئے تو یہ شرم کی بات ہے کہ اچھی چیز سمجھ کر کوئی شخص اس سلسلہ میں آیا تھا یا انہیں دیکھ کر ، سلسلے کی تعلیم کو اچھا سمجھ کر سلسلہ میں شامل ہوا تھا۔فرمایا کہ "جیسا کہ ایک رشید فرزند اپنے باپ کی نیک نامی ظاہر کرتا ہے کیونکہ بیعت کرنے والا فرزند کے حکم میں ہوتا ہے۔ایک شریف، اطاعت گزار ، نیک، تابع دار بیٹا جو ہے وہ اپنے باپ کی نیک نامی کا باعث بنتا ہے اور فرمایا کیونکہ بیعت کرنے والا جو ہے وہ بھی بیٹے کے حکم میں آیا ہے اور اس کی دلیل آپ نے یہ فرمائی کہ " اور اسی لئے آنحضرت صلعم کی ازواج مطہرات کو اُمہات المومنین کہا گیا ہے گویا کہ حضور عامۃ المومنین کے باپ ہیں۔" اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں امہات المومنین ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مومنین کے باپ ہیں۔فرمایا کہ "جسمانی باپ زمین پر لانے کا موجب ہو تا ہے۔"عام زندگی میں ہر ایک انسان کا باپ ہے اور وہ ماں باپ جو ہیں کسی روح کو یا بچے کے جسم کو زمین پر لانے کا موجب بنتے ہیں۔ماں باپ کے وجہ سے پیدائش کے ذریعہ بچہ اس دنیا میں آتا ہے " اور حیات ظاہری کا باعث۔" یہ زندگی جو اس کو ملتی ہے ایک باپ کی وجہ سے ہے۔مگر " اس کے مقابلے میں " روحانی باپ آسمان پر لے جاتا ہے۔"جسمانی باپ زمین پر لے کر آتا ہے اور روحانی باپ آسمان پر لے کر جاتا ہے۔روحانیت میں ترقی کرواتا ہے " اور اس مرکز اصلی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔یعنی خدا تعالیٰ کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔فرمایا کہ " کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ کوئی بیٹا اپنے باپ کو بد نام کرے ؟ کبھی پسند نہیں کرو گے کہ بیٹا اپنے باپ کو بد نام کرے۔نہ کوئی باپ یہ پسند کرتا ہے کہ اس کا بیٹا اسے بد نام کرنے والا ہو۔پس اس واسطے جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا اپنے نمونے ایسے بناؤ کہ نہ دوسروں کی ٹھو کر کا باعث ہو ، نہ اپنے باپ کو بد نام کرنے والے ہو۔فرمایا کوئی بیٹا اپنے باپ کو بدنام کرے؟ کوئی پسند کرتا ہے " طوائف کے ہاں جاوے ؟" طوائفوں کے پاس چلا جائے اور قمار بازی کرتا پھرے ؟ شراب پیوے یا اور ایسے افعال قبیحہ کا مر تکب ہو۔جو ا، شراب اس قسم کی حرکتیں کر رہا ہو۔کوئی باپ پسند نہیں کرتا۔کوئی نیک مسلمان باپ یہ پسند نہیں کرے گا کہ اس کا بیٹا اس طرح کی حرکتیں کرتا ہو بلکہ بعض حرکتیں ، بعض باتیں ایسی ہیں جو غیر مسلم بھی پسند نہیں کرتے۔فرمایا کہ "شراب پیوے اور ایسے افعال قبیحہ کا مرتکب ہو جو باپ کی بدنامی کا موجب ہوں۔" فرمایا کہ "میں جانتا