خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 256 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 256

خطبات مسرور جلد 14 256 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 مئی 2016 چھوڑ دیتے تھے۔" گویا کسی چیز کے بھی مالک نہیں ہیں اور اسی طرح پر ان کی گل امیدیں دنیا سے منقطع ہو جاتی تھیں۔ہر قسم کی عزت اور عظمت اور جاہ و حشمت کے حصول کے ارادے ختم ہو جاتے تھے "۔ان کا اپنا کچھ نہیں تھا۔نہ ان کو اپنی ذات کی عزت کی پرواہ تھی نہ کسی عظمت کی خواہش تھی۔نہ کسی بڑے عہدے کی خواہش تھی۔صرف غرض تھی تو یہ کہ ہم اسلام کی خاطر جان، مال، وقت اور عزت قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہیں۔یہ عہد ہم آج بھی کرتے ہیں لیکن عہدیداروں میں سے بھی ایسے بھی ہیں جو عہدوں کی خواہش رکھتے ہیں کہ شاید محدود طور پر ہی کچھ نہ کچھ جاہ و حشمت کا وہاں سے اظہار ہو جاتا ہے۔اگر عہدے ملتے ہیں تو بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہوں اور پہلے سے بڑھ کر دین کی خدمت کا جذبہ ان میں پیدا ہو، اس طرف توجہ نہیں ہوتی اور صرف اپنے عہدوں کا زعم ہوتا ہے۔پس عہدیداروں کو بھی اس طرف توجہ دینی چاہئے۔فرمایا کس کو یہ خیال تھا کہ ہم بادشاہ بنیں گے۔صحابہ میں سے کس کو یہ خیال تھا کہ بادشاہ بنیں گے یا کسی ملک کے فاتح ہو جائیں گے۔عربوں کی جو حالت تھی کسی کو اُس وقت خیال آسکتا تھا؟ بالکل نہیں۔" یہ باتیں ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھیں بلکہ وہ تو ہر قسم کی امیدوں سے الگ ہو جاتے تھے اور ہر وقت خدا تعالیٰ کی راہ میں ہر دکھ اور مصیبت کو لذت کے ساتھ برداشت کرنے کو تیار ہو جاتے تھے۔وہ جاہ و حشمت نہیں چاہتے تھے۔وہ عہدے نہیں چاہتے تھے۔عظمت نہیں چاہتے تھے۔عزت نہیں چاہتے تھے۔وہ تو قربانی چاہتے تھے اور اسی میں ان کے لئے لذت تھی۔اسی میں ان کو مزا آتا تھا۔فرمایا کہ " یہاں تک کہ جان تک دینے کو آمادہ رہتے تھے۔ان کی اپنی تو یہی حالت تھی کہ وہ اس دنیا سے بالکل الگ اور منقطع تھے۔لیکن یہ الگ امر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی عنایت کی اور ان کو نوازا۔" وہ تو ہر قربانی کے لئے تیار تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل فرمایا اور اپنی عنایت سے ان کو اتنانوازا۔" اور ان کو جنہوں نے اس راہ میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا ہز ارچند کر دیا۔کئی گنا اور ہزاروں گنا کر دیا۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 397-398) پھر بڑے درد سے ہمیں ہمارے اخلاق کے بہتر ہونے، نیکیوں پر قائم ہونے، برائیوں کو ترک کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : " "جو شخص اپنے ہمسایہ کو اپنے اخلاق میں تبدیلی دکھاتا ہے کہ پہلے کیا تھا اور اب کیا ہے وہ گویا ایک کرامت دکھاتا ہے۔" اپنے ہمسایوں کو اگر ہمارے احمدی ہونے کے بعد ہم میں تبدیلی نظر آتی ہے یا ہر احمدی جو ہے اپنے ہمسائے سے ایسا سلوک کرتا ہے کہ وہ حیران ہو کہ یہ انسان عام انسانوں میں سے نہیں ہے تو گویا وہ ایک کرامت دکھاتا ہے۔ایک معجزہ دکھاتا ہے۔ایک ایسا کام کرتا ہے جس کو دیکھ کر لوگ حیران و پریشان ہوتے ہیں۔فرمایا کہ " اس کا اثر ہمسائے پر بہت اعلیٰ درجہ کا پڑتا ہے۔" اور اسی اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے ہمسایہ متاثر ہوتا ہے اور