خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 255
خطبات مسرور جلد 14 255 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 مئی 2016 ظاہر کیا ہے کہ تقویٰ کم ہو گیا ہے۔" یہ سلسلہ قائم کرنے کا مقصد ہی تقویٰ کا قیام ہے۔یہ بات ہر ایک کو ذہن میں رکھنی چاہئے۔فرمایا " بعض تو کھلے طور پر بے حیائیوں میں گرفتار ہیں اور فسق و فجور کی زندگی بسر کرتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو ایک قسم کی ناپاکی کی ملونی اپنے اعمال کے ساتھ رکھتے ہیں۔مگر انہیں نہیں معلوم کہ اگر اچھے کھانے میں تھوڑا سا ز ہر پڑ جاوے تو وہ سارا زہریلا ہو جاتا ہے۔"ہم میں سے بہت سے ہیں نیکیاں کرتے ہیں لیکن بعض ایسی برائیوں میں ملوث ہیں جو ہماری نیکیوں کو کھا رہی ہیں۔فرمایا کہ اچھا کھانا ہو، اچھی چیز ہو، معمولی ساز ہر بھی اسے زہریلا کر دیتا ہے۔اور فرمایا کہ " اور بعض ایسے ہیں جو چھوٹے چھوٹے (گناہ) ریا کاری وغیرہ جن کی شاخیں باریک ہوتی ہیں ان میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔اب اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا ہے کہ وہ دنیا کو تقویٰ اور طہارت کی زندگی کا نمونہ دکھائے۔اسی غرض کے لئے اس نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے۔وہ تطہیر چاہتا ہے اور ایک پاک جماعت بنانا اس کا منشاء ہے۔" فرمایا کہ تقویٰ اور طہارت کا نمونہ دکھانا ہے۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 96-97) اب ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہماری اپنی حالتیں ایسی ہیں کہ ہم خود تقویٰ اور طہارت کا نمونہ بن سکیں اور دوسرے ہم سے سبق سیکھیں۔پس یہ جائزے خود ہم اپنی حالتوں سے لے سکتے ہیں۔پھر اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ آپ اپنی جماعت کو کس طرح دیکھنا چاہتے ہیں ؟ آپ فرماتے ہیں کہ " اس سلسلہ کو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے اور اس پر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ آتے ہیں اور وہ صاحب اغراض ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے تو اپنے ہاتھ سے اس لئے قائم کیا کہ تقویٰ پر چلنے والوں کی جماعت ایک قائم کرے۔اپنے نفسوں کی اصلاح کرنے والوں کی جماعت قائم کرے۔لیکن فرمایا کہ اس کے باوجو د ایسے لوگ بھی ہمارے پاس آجاتے ہیں جن کی اپنی غرض ہوتی ہے۔نیکی اور تقویٰ کا حصول ان کی غرض نہیں ہوتی بلکہ ان کے کچھ خود ذاتی مفاد ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ آجاتے ہیں۔فرمایا کہ " اگر اغراض پورے ہو گئے تو خیر ورنہ کدھر کا دین اور کدھر کا ایمان۔" پھر چھوڑ کر چلے گئے۔پھر ایمان کوئی نہیں رہا۔فرمایا کہ "لیکن اگر اس کے مقابلے میں صحابہ کی زندگی میں نظر کی جاوے تو ان میں ایک بھی ایسا واقعہ نظر نہیں آتا۔انہوں نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ہماری بیعت تو بیعت تو بہ ہی ہے۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہم جو بیعت کرتے ہیں وہ تو تو بہ کی بیعت ہی ہے کہ اپنے گناہوں سے تو بہ کرتے ہیں اور آئندہ نیکیوں پر قائم رہنے کی اللہ تعالیٰ سے دعامانگتے ہیں۔فرمایا کہ "لیکن ان لوگوں کی بیعت " یعنی صحابہ کی بیعت " تو سر کٹانے کی بیعت تھی۔" انہوں نے جو بیعت کی وہ تو سر کٹوانے کی بیعت تھی۔اُس زمانے میں تو تلوار کا جہاد تھا اور اس کے لئے ہر وقت ہر ایک تیار تھا۔" ایک طرف بیعت کرتے تھے اور دوسری طرف اپنے سارے مال و متاع، عزت و آبرو اور جان و مال سے دستکش ہو جاتے تھے۔سب کچھ