خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 3
خطبات مسرور جلد 14 3 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2016 کہ غرغرہ شروع ہو جاوے " موت آجائے" دنیا ہی اس کو مقصود، محبوب اور مطلوب رہتی ہے۔پھر کیونکر کہہ سکتا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتاہوں۔" فرمایا کہ: یہ بڑی غور طلب بات ہے اس کو سرسری نہ سمجھو۔مسلمان بننا آسان نہیں ہے۔رسول اللہ صلی للی کم کی اطاعت اور اسلام کا نمونہ جب تک اپنے اندر پیدا نہ کرو مطمئن نہ ہو۔یہ صرف چھلکا ہی چھلکا ہے اگر بدوں اتباع مسلمان کہلاتے ہو۔" یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہیں کرتے ، آپ کے اسوہ پر نہیں چلتے ، قرآن کریم کی تعلیم پر عمل نہیں کرتے فرمایا کہ " نام اور چھلکے پر خوش ہونا دانشمند کا کام نہیں ہے۔" پس اگر یہ اتباع نہیں کر رہے تو پھر تو چھلکا ہی ہے فرمایا کہ کسی یہودی کو ایک مسلمان نے کہا کہ تو مسلمان ہو جا۔اس نے کہا تو صرف نام ہی پر خوش نہ ہو جا۔"یہودی کہنے لگا کہ "میں نے اپنے لڑکے کا نام خالد رکھا تھا اور شام سے پہلے ہی اسے دفن کر آیا۔" اب خالد کا مطلب یہ ہے لمبا ر ہنے والا۔ہمیشہ رہنے والا۔لیکن اس نام سے تو اس کو زندگی نہیں مل گئی۔اس کی زندگی تو ایک دن بھی نہ رہی۔فرمایا کہ " پس حقیقت کو طلب کرو۔نرے ناموں پر راضی نہ ہو جاؤ۔کس قدر شرم کی بات ہے کہ انسان عظیم الشان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی کہلا کر کافروں کی سی زندگی بسر کرے۔تم اپنی زندگی میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ دکھاؤ۔وہی حالت پیدا کر و اور دیکھو اگر وہی حالت نہیں ہے تو تم طاغوت کے پیرو ہو۔" شیطان کے پیچھے چل رہے ہو۔غرض یہ بات اب بخوبی سمجھ میں آسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہونا انسان کی زندگی کی غرض وغایت ہونی چاہئے کیونکہ جب تک اللہ تعالیٰ کا محبوب نہ ہو اور خدا کی محبت نہ ملے کامیابی کی زندگی بسر نہیں کر سکتا اور یہ امر پیدا نہیں ہوتا جب تک رسول اللہ کی سچی اطاعت اور متابعت نہ کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے دکھا دیا ہے کہ اسلام کیا ہے ؟ پس تم وہ اسلام اپنے اندر پیدا کرو تا کہ تم خدا کے محبوب بنو۔" ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 187-188) اسلام دنیا کی نعمتوں سے منع نہیں فرماتا بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی تلقین فرماتا ہے۔اس بارے میں سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : " اسلام نے رہبانیت کو منع فرمایا ہے۔یہ بزدلوں کا کام ہے۔مومن کے تعلقات دنیا کے ساتھ جس قدر وسیع ہوں وہ اس کے مراتب عالیہ کا موجب ہوتے ہیں کیونکہ اس کا نصب العین دین ہو تا ہے اور دنیا، اس کا مال وجاہ دین کا خادم ہوتا ہے۔پس اصل بات یہ ہے کہ دنیا مقصود بالذات نہ ہو بلکہ حصول دنیا میں اصل غرض دین ہو اور ایسے طور پر دنیا کو حاصل کیا جاوے کہ وہ دین کی خادم ہو۔جیسے انسان کسی جگہ سے دوسری جگہ جانے کے واسطے سفر کے لئے سواری اور زادِ راہ کو ساتھ لیتا ہے تو اس کی اصل غرض منزل مقصود پر پہنچنا ہوتی ہے، نہ خود