خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 254 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 254

خطبات مسرور جلد 14 254 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 مئی 2016 اس کے اچھے نتائج نہیں نکل رہے۔پس یہ ایک بڑی واضح بات ہے کہ اگر اچھے نتائج نہیں نکل رہے تو ہمیں سمجھنا چاہئے کہ ہمارے اندر ہی کوئی کمزوری ہے، ہماری دعاؤں میں کمی ہے، ہمیں دعاؤں کے طریقے اور اسلوب نہیں آتے، ہم اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے والے نہیں ہیں۔فرمایا کہ "جب تک انسان پاک دل اور صدق و خلوص سے تمام ناجائز رستوں اور امید کے دروازوں کو اپنے اوپر بند کر کے خدا تعالیٰ ہی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلا تا اس وقت تک وہ اس قابل نہیں ہو تا کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید اسے ملے۔لیکن جب وہ اللہ تعالیٰ ہی کے دروازے پر گرتا اور اسی سے دعا کرتا ہے تو اس کی یہ حالت جاذبِ نصرت اور رحمت ہوتی ہے۔" پھر جب ایسی حالت ہو جائے کہ انسان بے نفس ہو کر، بے غرض ہو کر اللہ تعالیٰ کے دروازے پر گرے، اس کے در پر گرے، اس سے دعا کرے تو پھر ایسی حالت ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی مدد اور تائید اور نصرت کو جذب کرتی ہے۔اس کو حاصل کرتی ہے اور باعث رحمت ہوتی ہے۔انسان اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والا ہوتا ہے۔فرمایا " خدا تعالیٰ آسمان سے انسان کے دل کے کونوں میں جھانکتا ہے۔" یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ غافل ہے۔اللہ تعالیٰ آسمان پر بیٹھا انسان کے دل کے کونوں تک سے واقف ہے۔" اور اگر کسی کونے میں بھی کسی قسم کی ظلمت یا شرک و بدعت کا کوئی حصہ ہوتا ہے تو اس کی دعاؤں اور عبادتوں کو اس کے منہ پر الٹامار تا ہے۔" پس دل کو ہر لحاظ سے پاک کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔کہیں بھی دل کے اندر اندھیرا نہ ہو۔کہیں بھی کسی قسم کے شرک کا پہلو نہ ہو۔کہیں بھی کسی قسم کی بدعت کا خیال دل میں پیدا نہ ہو۔اگر ایسا ہو تو پھر عبادتیں عبادتیں نہیں رہتیں، اللہ تعالیٰ ان کو قبول نہیں کرتا۔فرمایا اس کے منہ پر الٹا مارتا ہے۔" اور اگر دیکھتا ہے کہ اس کا دل ہر قسم کی نفسانی اغراض اور ظلمت سے پاک اور صاف ہے تو اس کے واسطے رحمت کے دروازے کھولتا ہے اور اسے اپنے سایہ میں لے کر اس کی پرورش کا خود ذمہ لیتا ہے۔اور جب دل پاک ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر انسان سب کچھ کر رہا ہو تو پھر اللہ تعالیٰ اس کی ہر قسم کی پرورش اس کی ضروریات کا خود ذمہ دار ہو جاتا ہے۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 396-397) پس ایک حقیقی احمدی کو اپنے دل کو ہر قسم کے شرک اور بدعات سے پاک کرنا ہو گا۔وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہم نے بہت دعائیں کیں، بہت لمبی لمبی دعائیں کیں، بڑی دعائیں کیں اور قبول نہیں ہوئیں اپنے دلوں کو ٹولیں، جائزے لیں کہ کہیں کوئی مخفی شرک تو نہیں۔کسی قسم کی بدعات میں تو ملوث نہیں۔یا اور ایسی باتیں تو نہیں ہو رہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔پھر ایک جگہ یہ وضاحت فرماتے ہوئے کہ تقویٰ کا قیام ہی اس جماعت کے قائم کرنے کا مقصد ہے، سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : " اس سلسلہ سے خدا نے یہی چاہا ہے اور اس نے مجھ پر