خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 253
خطبات مسرور جلد 14 253 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 مئی 2016 کا سلوک تو ایک طرف رہا دوسرے کے حق مارنے کی کوشش کرتے ہیں۔پھر ایسے بھی ہیں جو دنیا کا نقصان تو برداشت نہیں کرتے لیکن دین کا نقصان ہو رہا ہو تو برداشت کر لیتے ہیں۔کتنے ہی ہم میں سے ایسے ہیں جو جذبات پر کنٹرول نہیں رکھتے۔ذرا ذراسی بات پر بھڑک جاتے ہیں۔اگر غیر یہ کریں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ لوگ جاہل ہیں۔لیکن اگر ہم میں سے کوئی ایسا کرے تو بہر حال یہ قابل افسوس بات ہے۔پس ہر کوئی خود ان باتوں میں اپنا جائزہ لے سکتا ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے یہ الفاظ ہمیں ہمیشہ سامنے رکھنے چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ ایک نئی قوم زندوں کی پیدا کرنا چاہتا ہے۔پس ہم نے ان زندوں میں شامل ہونے کے لئے بیعت کی ہے اس لئے اس کا حق ادا کرنے کے لئے آپ کی باتوں پر ہمیں توجہ دینی ہو گی تاکہ زندوں کی قوم میں شامل ہو سکیں۔پھر اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ ہدایت مجاہدہ اور تقویٰ پر منحصر ہے۔جب تک تقویٰ پیدانہ ہو ، جب تک انسان کو شش نہ کرے، جب تک اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر دین کی خاطر ہر قربانی کے لئے تیار نہ ہو ، اُس وقت تک حقیقی ہدایت نہیں پا سکتا۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: "جو شخص محض اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس کی راہ کی تلاش میں کوشش کرتا ہے اور اس سے اس امر کی گرہ کشائی کے لئے دعائیں کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے قانون وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت:70)۔یعنی جو لوگ ہم میں سے ہو کر کوشش کرتے ہیں ہم اپنی راہیں ان کو دکھا دیتے ہیں، کے موافق خود ہاتھ پکڑ کر راہ دکھا دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی راہ تلاش کرنے کے لئے ان کی کوشش ہوتی ہے اور پھر دعائیں بھی ہوتی ہیں کہ ان کی برائیاں دور ہوں، اللہ تعالیٰ ان سے ملے اور اس کے لئے جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ، یہ آیت جو میں نے پڑھی کہ اگر اللہ تعالیٰ کی راہ میں کوشش کرو گے تو اللہ تعالیٰ پھر اپنے رستے دکھاتا ہے۔آپ فرماتے ہیں اس آیت کے موافق خود ہاتھ پکڑ کر راہ دکھا دیتا ہے " اور اسے اطمینان قلب عطا کرتا ہے اور اگر خود دل ظلمت کدہ اور زبان دعا سے بوجھل ہو اور اعتقاد شرک و بدعت سے ملوث ہو تو وہ دعا ہی کیا ہے۔" کہ اگر دل خود ہی اندھیرے اور تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے ، زبان سے ظاہری دعا تو ہے لیکن بڑی مشکل سے دعا کے الفاظ نکل رہے ہیں۔جہاں تک اعتقاد کا سوال ہے، ظاہر تو یہی اعتقاد ہے کہ ہم مسلمان ہیں، الحمد للہ ایمان رکھتے ہیں۔الحمد للہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے۔اعتقادی لحاظ سے سب ٹھیک ہے لیکن عملاً کیا ہے ؟ شرک میں بھی مبتلا ہیں۔بدعات میں بھی مبتلا ہیں۔دین کے بارے میں نئی نئی باتیں ایجاد کرلی ہیں تو ایسی حالت ہو تو پھر دعا نہیں ہو سکتی۔اور فرمایا کہ " اور وہ طلب ہی کیا ہے جس پر نتائج حسنہ مترتب نہ ہوں۔" جب ایسی طلب ہوتی ہے تو پھر اس کے اچھے نتائج نہیں نکلتے۔اس لئے ایسی حالت اگر ہو گی تو وہ طلب طلب نہیں رہے گی۔وہ دل سے نکلی ہوئی دعا نہیں رہے گی۔وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لئے اور اس کے حکموں پر چلنے کے لئے کوشش اور دعا نہیں ہو گی کیونکہ