خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 252
خطبات مسرور جلد 14 252 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 مئی 2016 گناہ کی جرات نہیں کرتے۔مگر جب ذرا کمزوری رفع ہوئی اور گناہ کا موقع ملا تو جھٹ اس کے مرتکب ہوتے ہیں۔" اگر گناہوں سے بچے ہوئے ہیں تو اس لئے نہیں کہ نیکی غالب ہے۔اس لئے کہ جرأت نہیں ہے، بعض چیزوں کا خوف ہے۔مگر جب وہ خوف دُور ہو جاتا ہے تو پھر گناہ کرنے لگ جاتے ہیں۔فرمایا " آج اس زمانہ میں ہر ایک جگہ تلاش کر لو تو یہی پتا ملے گا کہ گویا سچا تقویٰ اٹھ گیا ہوا ہے اور سچا ایمان بالکل نہیں ہے لیکن چونکہ خدا تعالیٰ کو منظور ہے کہ ان کے بچے تقویٰ اور ایمان کا تخم ہر گز ضائع نہ کرے۔" جن لوگوں میں سچے تقویٰ اور ایمان کا بیج ہے اس کو ضائع نہ کرے، اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے۔فرمایا کہ " جب اللہ تعالیٰ " دیکھتا ہے کہ اب فصل بالکل تباہ ہونے پر آتی ہے تو اور فصل پیدا کر دیتا ہے۔وہی تازہ بتازہ قرآن موجود ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے کہا تھا إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكَرَوَانا له تحفِظُونَ (الحجر: 10)۔بہت سا حصہ احادیث کا موجود ہے اور برکات بھی ہیں مگر دلوں میں ایمان اور عملی حالت بالکل نہیں ہے۔" اُس زمانے میں بھی مسلمانوں کا یہ نقشہ کھینچا گیا اور آج بھی یہی حالت ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ "خدا تعالیٰ نے مجھے اسی لئے مبعوث کیا ہے کہ یہ باتیں پھر پیدا ہوں۔خدا نے جب دیکھا کہ میدان خالی ہے تو اس کی الوہیت کے تقاضا نے ہر گز پسند نہ کیا کہ یہ میدان خالی رہے۔" اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ یہ میدان خالی ہو رہا ہے ، لوگوں کے دل نیکی اور تقویٰ سے خالی ہو رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے انسانی ہمدردی کے تقاضے کو سامنے رکھتے ہوئے یہ پسند نہ کیا کہ یہ میدان خالی رہے۔فرمایا کہ " اور لوگ ایسے ہی دور رہیں۔اس لئے اب ان کے مقابلے میں خدا تعالیٰ ایک نئی قوم زندوں کی پیدا کرنا چاہتا ہے اور اسی لئے ہماری تبلیغ ہے کہ تقویٰ کی زندگی حاصل ہو جاوے۔" ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 395-396) پس جیسا کہ میں نے پہلے کہا اگر ہم جائزہ لیں تو یہ صرف اُس زمانے کے لوگوں کا نقشہ نہیں ہے جب آپ علیہ السلام اپنے زمانے کے لوگوں کو نصیحت فرمارہے تھے بلکہ آج بھی ہمیں یہی باتیں نظر آتی ہیں۔ہم میں سے کتنے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکموں کو اپنے اوپر لاگو کرنے والے ہیں؟ دوسروں کو تو چھوڑیں، ہم جو آپ کی بیعت میں شامل ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، ہم میں سے کتنے ہیں؟ یہ جائزے لینے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے جنوں اور انسانوں کو عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔کیا ہم اپنے دنیاوی کاموں کو اپنی عبادت پر قربان کرتے ہیں یا اس کے الٹ ہے کہ ہماری عبادتیں ہمارے دنیاوی کاموں پر قربان ہو رہی ہیں ؟ ایسے بھی ہیں جو اگر وقت پر نماز پڑھ بھی لیں تو گلے سے اتارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان لوگوں کا حال تو علیحدہ ہے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہیں مانا۔ہم میں سے بھی ایسے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لوگوں سے معاملات میں احسان کا سلوک کرو۔لیکن بہت سے ایسے ہیں جو احسان