خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 251
خطبات مسرور جلد 14 251 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 مئی 2016 غرض کہ یہاں مختلف قسم کے لوگ ہیں۔ہر طبقے اور ہر قسم کے لوگوں کو جو احمدیت میں شامل ہوئے، چاہے پیدائشی ہیں، چاہے بعد میں بیعت کر کے آنے والے ہیں، چاہے ہجرت کر کے آنے والے ہیں یا یہاں کے رہنے والے ہیں سب کو ان باتوں پر غور کرنا ہو گا کہ اب انہیں اسلام کی حقیقی تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کی بیعت میں آنے کا حق ادا کر سکیں۔پس جیسا کہ میں نے پہلے کہا پیدائشی احمدی ہوں، پرانے احمدی ہوں یانئے آنے والے احمدی ہوں، ہر احمدی عورت اور مرد کو یہ جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا وہ بیعت کا حق ادا کر رہے ہیں یا حق ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ؟ کیا ہم پر جو ذمہ داریاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ڈالی ہیں انہیں ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ؟ کیا اپنی حالتوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں ؟ کیا ہم اپنے بچوں کی اس رنگ میں تربیت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان میں دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا شعور ابتدا سے ہی پیدا ہو جائے ؟ کیا ہمارے اپنے عمل اسلامی تعلیم کے مطابق ہمارے بچوں کے لئے نمونہ ہیں ؟ کیا ہماری نمازیں، ہماری عبادتیں اور ہمارا ہر عمل اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی بتائی ہوئی تعلیم کے مطابق ہے؟ یہ باتیں ہر ایک اپنے جائزے لے کر خود بہتر طور پر جان سکتا ہے۔ان باتوں کی گہرائی جاننے اور اپنے جائزوں کے بہتر معیار مقرر کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہماری رہنمائی فرمائی ہوئی ہے۔اس وقت میں ان میں سے چند باتیں پیش کروں گا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم سے چاہتے ہیں۔ایک مجلس میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے بڑے درد سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ: "ہماری جماعت کے لئے ضروری ہے کہ اس پر آشوب زمانے میں جب کہ ہر طرف ضلالت ، غفلت اور گمراہی کی ہوا چل رہی ہے تقویٰ اختیار کریں۔دنیا کا یہ حال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی عظمت نہیں ہے۔حقوق اور وصایا کی پرواہ نہیں ہے۔" نہ اپنے ذمہ حق ادا کرتے ہیں، نہ جو وصایا ہیں، وصیتیں ہیں ان کو پورا کرنے والے ہیں۔دنیا اور اس کے کاموں میں حد سے زیادہ انہماک ہے۔ذرا سا نقصان دنیا کا ہوتا دیکھ کر دین کے حصہ کو ترک کر دیتے ہیں۔اس وقت دین مقدم ہونے کے بجائے دنیا مقدم ہو جاتی ہے۔دنیا کو نقصان سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں چاہے دین بیشک چلا جائے۔آپ فرماتے ہیں" ذرا سا نقصان دنیا کا ہوتا دیکھ کر دین کے حصے کو ترک کر دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حقوق ضائع کر دیتے ہیں جیسے کہ یہ سب باتیں مقدمہ بازیوں اور شرکاء کے ساتھ تقسیم حصہ میں دیکھی جاتی ہیں۔"رشتہ داروں میں جائیدادوں کی آپس میں تقسیم ہو رہی ہو یا مسائل پید اہو رہے ہوں وہاں یہ باتیں دیکھی جاتی ہیں اور آج بھی یہ روز مرہ کی باتیں ہیں۔پھر فرمایا کہ " لالچ کی نیت سے ایک دوسرے سے پیش آتے ہیں۔نفسانی جذبات کے مقابلے میں بہت کمزور واقع ہوئے ہیں۔اس وقت تک کہ خدا نے ان کو کمزور کر رکھا ہے