خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 250
خطبات مسرور جلد 14 250 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 مئی 2016 سہولت اور نعمت عطا فرمائی ہے اس کے ذریعہ سے میری باتیں ہر احمدی تک پہنچ رہی ہیں بشر طیکہ وہ انہیں سننا چا ہے۔بہر حال میں نے کہا تھا کہ اللہ تعالی نے آپ کو یا آپ کے باپ دادا کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق دی ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے اور اللہ تعالیٰ نے کسی نیکی کی وجہ سے یہ فضل فرمایا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جاری رکھنے کے لئے ان نیکیوں میں بڑھنا اور اپنی حالتوں کو پہلے سے بہتر کرنا بھی ضروری ہے ورنہ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اگر ہمارے قدم رک گئے یاد ینی باتوں میں عدم تو جنگی پیدا ہو گئی یا ہوتی رہی تو ہم اپنی نسلوں کو بھی دین سے دور کرنے والے ہوں گے اور یوں انہیں اللہ تعالیٰ کے اس خاص فضل سے جس کی پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی محروم کرنے والے ہوں گے یعنی مسیح موعود کی بعثت اور اس کا ماننا۔جن کے باپ دادا احمد کی ہوئے اگر ان کی نسلیں دین سے دُور ہٹ گئیں تو وہ اپنے بڑوں کی، اپنے بزرگوں کی دعاؤں سے محروم رہیں گی۔اللہ تعالیٰ نیکی کا اجر دیتا ہے اور ضرور دیتا ہے۔اگر کسی کی نیکی ہو اور خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہو تو اولادیں بھی اس سے فیض پاتی ہیں لیکن ساتھ ہی اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ تمہیں اپنے عمل درست کرنے ہوں گے تاکہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا فیض ہمیشہ جاری رہے۔جن کے بزرگ احمدی ہوئے ان بزرگوں نے تو اپنے عہد بیعت کو نبھایا اور دنیا سے رخصت ہوئے۔اس خواہش اور دعا کے ساتھ رخصت ہوئے کہ ان کی نسلیں بھی یہ عہد نبھانے والی ہوں۔پس اس وقت آپ میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم اس عہد کو نبھانے والے ہیں جس کی تلقین ہمارے بزرگوں نے ہمیں کی تھی یا جس راستے پر ہمارے بزرگ ہمیں ڈالنا چاہتے تھے۔یہ جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا حقیقت میں ہم اپنا عہد بیعت نبھارہے ہیں یا صرف روایتیا اپنے بڑوں کے بزرگوں کے دین پر قائم ہیں۔صرف رشتہ داری اور معاشرتی تعلقات کی وجہ سے جماعت میں شامل ہیں اور ابھی یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔اسی طرح جنہوں نے خود احمدیت قبول کی ہے وہ یہ جائزے لیں کہ کیا ہم نے اپنے ایمان میں بڑھنے اور اپنے عملوں کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے یا کر رہے ہیں یا وہ ایک وقتی جذبہ تھا جس کی وجہ سے احمدیت کو قبول کر لیا۔کسی بات سے متاثر ہو کر احمدیت قبول کر لی اور ابھی تک وہیں کھڑے ہیں جہاں پہلے دن تھے۔فائدہ تو ہمیں تبھی ہو گا جب ہمارا ہر قدم ترقی کی طرف بڑھ رہا ہو گا۔جو ترقی یافتہ ملکوں میں ہجرت کر کے آئے ہیں ان ممالک میں انہیں مسلسل یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کہیں بہتر حالات نے انہیں دین سے دُور تو نہیں کر دیا؟ یورپ کی ترقی سے متاثر ہو کر دین کو بھول تو نہیں گئے ؟ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں کو سود، مشرقی یورپ سے آئے ہوئے بھی بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے احمدیت قبول کی ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کو مانا ہے، انہیں بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ان پر اللہ تعالی نے بڑا فضل فرمایا ہے۔