خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 249 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 249

خطبات مسرور جلد 14 249 19 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 مئی 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 06 مئی 2016ء بمطابق 06 ہجرت 1395 ہجری شمسی بمقام مسجد نصرت جہاں، ڈنمارک تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: تقریبا گیارہ سال پہلے میں یہاں آیا تھا۔وقت گزرنے کا پتا نہیں چلتا۔کئی بچے تھے جو آج جو ان ہو گئے ہوں گے۔کئی ایسے ہوں گے جو بچوں کے ماں باپ بن چکے ہوں گے۔ظاہری طور پر بھی اللہ تعالیٰ نے یہاں جماعت پر بہت فضل فرمایا ہے اور مسجد کے ساتھ ایک بڑا ہال، دفاتر ، لائبریری اور دوسری سہولیات مل گئیں۔اسی طرح مسجد کے سامنے جو مکان لیا تھا اس میں بھی بڑی وسعت پیدا ہو گئی اور مشنری کی رہائشگاہ، گیسٹ ہاؤس اور ایک بڑا ہال میسر آگیا۔یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں۔اگر آپ کے گھروں کی آبادیاں بڑھی ہیں، اگر آپ کے مال بڑھے ہیں، جماعت کو ظاہری عمارتوں کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے وسعت عطا فرمائی ہے تو یقیناً ان باتوں پر ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہئے۔یہ شکر گزاری کس طرح ہو اور اس کا کیا تقاضا ہے ؟ ہم جو اس زمانے کے امام کو ماننے والے ہیں ، جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہم نے اس شخص کو مانا ہے جس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر ایمان ثریا پر بھی چلا گیا تو وہ اسے واپس لائے گا تو پھر ہمیں اپنی سوچیں بھی مومنانہ بنانی ہوں گی۔ہمیں ظاہری شکر گزاری یا صرف منہ سے الحمد للہ کہہ کر خوش نہیں ہو جانا چاہئے بلکہ یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا ہم اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے احکامات پر عمل کر رہے ہیں؟ کیا ہم اس طرح زندگی گزار رہے ہیں جو ایک مومن کی زندگی ہے اور جس کی تفصیل اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے بیان فرمائی ہے اور جسے اس زمانے میں کھول کر ہمارے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش فرمایا۔میں نے اُس وقت بھی یہاں کے احمدیوں کو اس طرف توجہ دلائی تھی، جب میں گیارہ سال پہلے یہاں آیا تھا جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا، اور اکثر اس طرف توجہ دلاتا رہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں ایم ٹی اے کی