خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 246
خطبات مسرور جلد 14 246 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 اپریل 2016 ہے۔" فرماتے ہیں کہ " انسان بہت بڑے کام کے لئے بھیجا گیا ہے لیکن جب وقت آتا ہے اور وہ اس کام کو پورا نہیں کر تا تو خدا اس کا کام تمام کر دیتا ہے۔خادم کو ہی دیکھ لو کہ جب وہ ٹھیک کام نہیں کرتا تو آقا اس کو الگ کر دیتا ہے۔پھر خدا تعالیٰ اس وجود کو کیونکر قائم رکھے جو اپنے فرض کو ادا نہیں کرتا۔" فرماتے ہیں کہ " ہمارے مرزا صاحب " یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد مرحوم و مغفور " پچاس برس تک علاج کرتے رہے۔ان کا قول تھا کہ ان کو کوئی حکمی نسخہ نہیں ملا۔سچ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کے اذن کے بغیر ہر ایک ذرہ جو انسان کے اندر جاتا ہے کبھی مفید نہیں ہو سکتا۔توبہ و استغفار بہت کرنی چاہئے تا خدا تعالیٰ اپنا فضل کرے۔جب خدا تعالیٰ کا فضل آتا ہے تو دعا بھی قبول ہوتی ہے۔خدا نے یہی فرمایا ہے کہ دعا قبول کروں گا اور کبھی کہا کہ میری قضاء و قدر مانو۔اس لئے میں تو جب تک اِذن نہ ہولے کم امید قبولیت کی کرتا ہوں۔بندہ نہایت ہی ناتواں اور بے بس ہے۔پس خدا کے فضل پر نگاہ رکھنی چاہئے۔" ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 317 تا319) پھر آپ نے ہمیں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی طرف حقیقی اسلامی تعلیم کے مطابق رہنمائی فرمائی اور اپنا نمونہ اس طرح قائم فرمایا جس طرح آپ نے اپنے آقا و مطاع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ سے سیکھا۔آپ فرماتے ہیں کہ " اللہ تعالیٰ کے حقوق میں سب سے بڑا حق یہی ہے کہ اس کی عبادت کی جاوے اور یہ عبادت کسی غرض ذاتی پر مبنی نہ ہو بلکہ اگر دوزخ اور بہشت نہ بھی ہوں تب بھی اس کی عبادت کی جاوے اور اس ذاتی محبت میں جو مخلوق کو اپنے خالق سے ہونی چاہئے کوئی فرق نہ آوے۔" یہی اعتراض آجکل دین کے مخالفین بہت لوگ کرتے ہیں کہ لالچ کی خاطر تم لوگ عبادت کرتے ہو۔تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے پیار اور محبت کی وجہ سے اس کی عبادت کرنی چاہئے۔فرماتے ہیں کہ " اس لئے ان حقوق میں دوزخ اور بہشت کا سوال نہیں ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنا ہے۔اس میں یہ سوال نہ ہو کہ جنت ملے گی۔دوزخ ملے گی بلکہ جو اللہ سے محبت ہے اس کا حق یہ ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔اللہ تعالیٰ کے جو فضل ہیں ان کا حق یہ ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔دوسرا ہمد ردی بنی نوع انسان کی ہے۔فرمایا کہ " بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی میں میرا یہ مذہب ہے کہ جب تک دشمن کے لئے دعانہ کی جاوے پورے طور پر سینہ صاف نہیں ہو تا ہے۔ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن:61) میں اللہ تعالیٰ نے قید نہیں لگائی کہ دشمن کے لئے دعا کرو تو قبول نہیں کروں گا۔بلکہ میر اتو یہ مذہب ہے کہ دشمن کے لئے دعا کرنا یہ بھی سنت نبوی ہے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی سے مسلمان ہوئے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لئے اکثر دعا کیا کرتے تھے اس لئے بخل کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں کرنی چاہئے اور حقیقتاً موذی نہیں ہونا چاہئے۔شکر کی بات ہے کہ